تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 299 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 299

۲۹۹ باوجود اس کے کہ تمام دنیوی طاقتیں ان کی مخالف ہو جاتی ہیں پھر بھی وہ ان کی پشت پناہی کرتا ، ہر لحظہ ان کی حفاظت کے سامان فرماتا اور قدم بقدم ان کی کمزوری کو طاقت میں تبدیل فرماتا چلا جاتا ہے۔پس یہی معاملہ اس دعویدار اور اس کی جماعت کے ساتھ کیا گیا۔دنیا نے آپ کی مخالفت کو انتہاء تک پہنچا دیا۔آپ کے خلاف کفر والحاد کے فتاوی صادر کئے گئے۔جھوٹے مقدموں میں ملوث کیا گیا۔قتل کے منصوبے باندھے گئے۔آپ کے متبعین کو ہر لحاظ سے ستایا گیا۔ان کی مذہبی آزادی کو پائمال کیا گیا اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ان کے نفوس و اموال کو مباح قرار دے کر ان کو واجب القتل ٹھہرایا گیا۔ظالمانہ طور پر شہید کئے گئے۔اذیت ناک جسمانی سزائیں دی گئیں۔دکانیں لوٹی گئیں۔تجارتیں برباد کر دی گئیں اور گھر جلا دیئے گئے۔حتی کہ بار ہا بیوت الذکر بھی منہدم کر دی گئیں۔غرضیکہ مخالفت کا ہر وہ ذریعہ اختیار کیا گیا جس کا مقصد آپ کے پیغام اور آپ کی جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا تھا لیکن دشمنی اور عناد کا یہ طوفان اس آواز کو دبا نہ سکا اور مخالفت کی ہر لہر سے جماعت احمد یہ پہلے سے قوی تر اور بلند تر ہوکر اُبھری۔پس جماعت کے قیام سے لے کر ایک سو سال تک بلا شبہ اس نحیف اور کمزور جماعت کو قادر وتوا نا خدا کی تائید اور پشت پناہی حاصل تھی اور ہرلمحہ اس کا دستِ قدرت اس کی حفاظت فرما ر ہا تھا۔ان بے شمار فضلوں اور پیہم نوازشات پر اپنے محسن خدا کا ذکر بلند کرنے اور اظہار تشکر کی خاطر جماعت احمدیہ ۱۹۸۹ ء کا سال صد سالہ جشن تشکر کے طور پر منا رہی ہے۔اس مبارک موقعہ پر بڑے خلوص اور عجز کے ساتھ میں اپنے تمام انسان بھائیوں کو جماعت احمدیہ میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں اور علمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ خدا کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ یہ ایک سچی اور مخلص جماعت ہے جو اسلام کو دینِ حق تسلیم کرتی ہے اور ایمان رکھتی ہے کہ آج بنی نوع انسان کی نجات اسلام ہی کے دامن سے وابستہ ہے۔اسلام تمام بنی نوع آدم کو وحدت اور امن کا پیغام دیتا ہے اور اپنی اشاعت کے لئے کسی قسم کے جبر و تشدد کے ذرائع کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور انسانی آزادی ضمیر کا علمبر دار ہے۔اسلام انسان کو ہوائے نفس کی غلامی سے نجات بخشتا ہے اور ایک سادہ مگر انتہائی ترقی پذیر نظام عطا کرتا ہے جو اس کے تمام اقتصادی، تمدنی اور معاشرتی مسائل کا مؤثر حل اپنے اندر رکھتا ہے۔اسلام ایک ایسا سیاسی نظریہ دُنیا کو عطا کرتا ہے جس میں جھوٹ اور فریب دہی کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسے کامل عدل کی تعلیم دیتا ہے جو انفرادی، قومی اور گروہی مصالح سے بالا تر ہے اور دوست