تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 235 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 235

۲۳۵ تاریخ: ۲۹ دسمبر ۱۹۸۷ء مقام : دارالرحمت شرقی ب ربوہ مرکزی نمائندگان: مکرم مولانا مبشر احمد کاہلوں صاحب، مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب مختصر رپورٹ : بعد نماز مغرب و عشاء مجلس سوال و جواب کا انعقاد ہوا۔مکرم مولا نا مبشر احمد کاہلوں صاحب نے سوالات کے جواب دیئے۔حاضری قریباً ستر رہی۔تاریخ: ۳۱ دسمبر ۱۹۸۷ء مرکزی نمائندہ: مکرم پر و فیسر عبد الرشید صاحب غنی قائد مال مقام: سرگودھا مختصر رپورٹ : سرگودھا شہر کا ماہانہ اجلاس مجلس عاملہ میں مرکزی نمائندہ نے شرکت کی۔انہوں نے عاملہ کو اپنے اپنے حلقہ جات میں حضور کی کیسٹیں سنانے اور شعبہ تعلیم کی طرف توجہ دلائی اس کے بعد شعبہ مال کے تحت ترجمہ قرآن اور ہسپتال نگر پارکر کے ٹارگٹ کے متعلق آگاہ کیا گیا۔عہدیداران کی حاضری بارہ تھی۔۱۹۸۸ء دستور اساسی میں بنیادی ترامیم جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے مجالس بیرون کے سلسے میں سیدنا حضرت خلیفہ امسح الرابع رحم اللہ کی ہدایت پر کمیٹی نے کچھ سفارشات حضور انور کی خدمت میں پیش کی تھیں۔حضور کی منظوری کی روشنی میں دستور اساسی انصاراللہ میں بنیادی ترامیم کی ضرورت تھی۔چنانچہ صدر محترم نے حضورانور کی خدمت میں مندرجہ ذیل خط تحریر کیا۔بسم الله الرحمن الرحيم سیدی حضور اید کم اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے تحت ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں حسب ذیل ممبران تھے۔(۱) وکیل اعلیٰ (۲) وکیل التبشیر (۳) صدر انصار الله (۴) صدر خدام الاحمدیہ (۵) نمائنده لجنه اس کمیٹی کا صدر حضور اید کم اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو بحیثیت وکیل اعلیٰ اور بحیثیت صدر انصار اللہ مقرر فرمایا تھا۔اس کمیٹی کے ذمہ اس امر پر غور کرنا تھا کہ چونکہ گزشتہ چند سالوں میں کئی جگہ مبلغ انچارج امیر نہیں رہے بلکہ کسی اور کو امیر مقرر کر دیا گیا ہے۔اس لئے کیا امیر کو ذیلی تنظیموں کا نائب صدر بنایا جائے یا مبلغ انچارج کو یا کوئی اور صورت ہو۔اس سلسلہ میں کمیٹی کی رپورٹ پر حضور اید کم اللہ تعالیٰ نے نائب صدر ملک کا عہدہ مجالس انصار اللہ بیرون سے ختم کرنے کی منظوری فرما دی تھی۔اب تمام کام ناظم اعلیٰ ملک ، امیر صاحب ملک اور مرکز کی زیر نگرانی کریں گے۔اس فیصلہ کے مدنظر دستور اساسی مجلس انصار اللہ مرکز یہ میں درج ذیل ترامیم ناگزیرتھیں جو منظوری کے لئے پیش خدمت ہیں۔