تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 159
۱۵۹ بعض اقتباسات سے خلافت کی اہمیت اور اس کے متعلق آنے والے حالات اور خوشخبریوں سے سامعین کو آگاہ کیا۔نیز یہ بھی واضح کیا کہ خلفاء کے تمام قول وفعل بڑی ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ان کو معمولی نہ سمجھیں۔بعد ازاں صدر محترم نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی بیرون ملک روانگی کو الہی سلسلہ کے قیام کی غرض و غایت پورا کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا اور تفصیلاً بتایا کہ کس تیز رفتاری سے حضور سلسلہ کی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اتنی ہی تیزی سے اپنے فضلوں کے نئے نئے دروازے کھول رہا ہے۔نئے مشنوں کا قیام، اُن کے لئے عمارات کی خرید ، دعوت الی اللہ کی طرف ہر جہت سے خصوصی توجہ ، قرآن پاک کے تراجم غرض کوئی ایک امرایسا نہیں جس پر حضور کی خصوصی نگاہ نہ ہو۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک حضور کے ساتھ اپنے روحانی رابطہ کو مضبوط کرے۔جو بھی حضور کے ارشاد پر پوری طرح عمل کرے گا ، دونوں جہان میں سرخرو ہوگا۔دورہ فیصل آباد مورخه ۲۵ فروری ۱۹۸۶ ء بعد نماز مغرب اجلاس عام ہوا جس میں مکرم منور احمد جاوید صاحب، مکرم خان بشیر احمد رفیق صاحب اور مکرم طارق اسلام صاحب مربی سلسلہ نے مرکزی نمائندگان کی حیثیت سے شمولیت کی۔فیصل آباد کے ہر دو حلقہ کی حاضری حسب ذیل تھی۔نام حلقہ حلقہ دارالذکر حاضری انصار حاضری خدام حاضری اطفال ۳۸ میزان حلقہ دار الفضل ۳۲ کل میزان ۷۰ ۵۶ ۶۳ ۴۶ ۷۸ ۱۴۱ ۱۵۷ ۱۵۶ ۳۱۳ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد پچاس منٹ سیرت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے موضوع پر مکرم خان بشیر احمد رفیق صاحب نے خطاب کیا جو نہایت دلچسپی سے سنا گیا۔اس میں حضرت چوہدری صاحب کی عملی زندگی کے بعض پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا خصوصاً اسلامی عبادات ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ذاتی بے نفسی اور دعوت الی اللہ میں جوش اور شفقت، مختلف مثالوں اور ذاتی واقعات سے نہایت درجہ بزرگ اور خوبصورت رفیق سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوبصورت سیرت کو پیش کیا گیا۔اُن کی تقریر کے بعد مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نے حضرت چوہدری صاحب کی سیرت کے تعلق میں احباب جماعت کو اسلامی عبادات خصوصاً نماز با جماعت کے قیام کی طرف توجہ دلائی کہ امام وقت مسلسل خطبات میں اس سب سے اہم فریضہ کی طرف توجہ دلا چکے ہیں۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کا سارا نظام بیدار ہو کر ان کوششوں میں لگ جائے۔اسی طرح اصلاح وارشاد کے شعبہ میں جان ڈالیں۔چھوٹی چھوٹی مجالس سوال و جواب کا انعقاد کریں۔تحریک جدید کے ضمن میں آج کے دور میں بڑھتی ہوئی اہمیت اور کاموں میں وسعت کا ذکر کیا۔