تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 137 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 137

۱۳۷ کارناموں کی وجہ سے محبت اور عقیدت کے ساتھ یا درکھے جائیں گے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۶ فروری ۱۸۹۳ء کو پیدا ہوئے۔۳ /ستمبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف لاہور میں حاصل کیا۔ستمبر ۱۹۰۵ء میں پہلی بار قادیان تشریف لائے۔۶ استمبر ۱۹۰۷ء کو دستی بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔گریجوئیشن کے بعد آپ انگلستان تشریف لے گئے۔لنکران سے بیرسٹر ہوئے۔۱۹۱۹ء سے ۱۹۳۵ء تک جماعت احمدیہ لاہور کی امارت کے فرائض سرانجام دیئے۔۱۹۲۴ء میں مذاہب عالم کا نفرنس ویمبلے میں حضرت مصلح موعود کا مضمون نہایت عمدہ اور شاندار طریق پر پڑھا۔آپ وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بھی رہے اور باشندگان ہند خصوصاً مسلمانوں کے مفادات کے لئے بے لوث خدمات انجام دیں۔قدرت ثانیہ کی جو بلی ۱۹۳۹ء کی تاریخ تقریب کے لئے باجازت حضرت مصلح موعود آپ نے تحریک کی اور جلسہ ۱۹۳۹ء پر جماعت کی طرف سے تین لاکھ روپے کی رقم حضور کی خدمت میں پیش کرنے کا یادگاری موقع ملا۔قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان پر ریڈ کلف ایوارڈ میں مسلمانوں کی طرف سے فاضلانہ اور مدلل بحث فرمائے۔قیامِ پاکستان پر قائد اعظم نے آپ کو ملک کا پہلا وزیر خارجہ نا مز دفرمایا۔سیکورٹی کونسل میں پاکستان کی فقید المثال نمائندگی کرنے کے علاوہ مسئلہ کشمیر، لیبیا ، سالی لینڈ ، ار بیٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس، مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے حق میں سرفروشانہ اور مجاہدانہ جد وجہد فرمائی۔عالمی عدالت انصاف اور جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کے صدر رہے۔یکم ستمبر ۱۹۸۵ء کو دین و دنیا کا یہ چمکتا ہوا سورج اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوگیا۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء کے خطبہ جمعہ میں آپ کی وفات پر فرمایا: میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات میں سے ایک کلمہ تھے اور ایک عظیم الشان مقام خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تقویٰ کا نصیب ہوا۔“ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب مرحوم کو خصوصیت کے ساتھ ظاہری طور پر بھی اس کو پورا کرنے کا اس رنگ میں موقع ملا کہ آپ نے اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے بسا اوقات سب کے منہ بند کر دئیے۔سیاست کے میدان میں بھی ، وکالت کے میدان میں بھی اور تبلیغ کے میدان میں بھی ایسی عمدہ نمائندگی کی توفیق آپ کو عطا ہوئی کہ اپنے تو اپنے دشمن بھی بے ساختہ پکار اٹھے کہ اس بطل جلیل نے بلاشبہ غیروں کے منہ بند کر دیئے ہیں۔﴿۵۳) مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ میں حضرت چوہدری صاحب کو رکن خصوصی رہنے کا اعزاز حاصل تھا۔آپ کے سانحہ ارتحال پر مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے جو قرارداد تعزیت منظور کی ، اُس کی نقل پیش ہے: دد مجلس انصار الله مرکز یہ ربوہ آج بتاریخ ۲۱ تبوک ۱۳۶۴ هش بمطابق ۲۱ ستمبر ۱۹۸۵ء اپنے خصوصی اجلاس میں احمدیت کے مایہ ناز فرزند، حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے رفیق،