تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 136
۱۳۶ دینے والے تو مشرک تھے۔وہ اس عقیدے کو اور کلمہ کو نہیں مانتے تھے لیکن احمدیوں کا کلمہ پڑھنا آپ کو تکلیف دیتا ہے۔اس لئے میں اہل پاکستان کو خدا تعالیٰ کی پکڑ سے ڈراتا ہوں۔احمدی ظلموں پر صبر کر رہے ہیں۔اگر ان کا صبر آپ پر ٹوٹا تو آپ کو کہیں کا نہ چھوڑے گا لیکن میری دعا پھر بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے۔احمدیوں کا صبر ٹوٹنے سے پہلے اللہ سے استغفار کریں۔ورنہ میں اس ملک کے لئے بہت ہی برے دن دیکھ رہا ہوں۔آخری قدم اٹھانے سے پہلے باز رہیں ورنہ اس کے بعد پھر واپسی کی کوئی راہ نہیں رہے گی۔﴿21﴾ اسیران کی رہائی روز نامہ الفضل کے ایڈیٹر محترم مولانا سیم سیفی صاحب، پبلشر مکرم آغا سیف اللہ صاحب، پرنٹر مکرم قاضی منیر احمد صاحب اور ماہنامہ انصار اللہ کے ایڈیٹر محترم مرزا محمد الدین ناز صاحب اور پبلشر مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب ایک ماہ کی اسیری کے بعد ۸ مارچ ۱۹۹۴ کو رہا ہو گئے۔جملہ احباب سہ پہر قریباً چار بجے جوڈیشل حوالات چینوٹ سے رہا ہوئے تو حوالات کے باہر ادارہ الفضل کا عملہ، اسیران کے لواحقین کے علاوہ دفتر مشیر قانونی اور امور عامہ کے اہلکار استقبال کے لئے موجود تھے۔اسیران کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ان کی یادگاری تصاویر بنائی گئیں۔چینوٹ سے روانہ ہو کر جملہ اسیران ربوہ آکر حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب امیر مقامی و ناظر اعلی صد را منجمن احمدیہ کے گھر تشریف لے گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کی رہائی پر مبارکباددی اور ان کی جرات و حوصلہ کو سراہا۔بعد ازاں اسیران اپنے اپنے گھروں کو تشریف لے گئے۔ے مارچ کو سیشن جج چینوٹ نے اسیران کی ضمانت قبول کی اور اگلے روز ۸ مارچ کو ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے مزید چار مقدمات میں ادارہ الفضل کے اسیران کی ضمانت لی۔یہ چار مقدے حالیہ اسیری کے دوران درج ہوئے تھے۔(۵۲) انتقال پر ملال حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب عالمی سطح کے ایک نابغہ روز گار وجود تھے۔آپ خدائے واحد کے ایسے بندہ منتخب تھے جنہیں بارگاہ ایزدی سے قبولیت اور قربت کا خصوصی شرف عطا ہوا۔مسیح پاک علیہ السلام کی مسیحی صحبت اور خلفائے احمدیت کے اکتاب فیض کی بدولت ابتداء سے ہی آپ کو صدق وصفا اور اخلاص و وفا میں غیر معمولی رفعت حاصل کرنے کی سعادت ملی۔آپ سید نا حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ان خاص الخاص اور چنیدہ زمرہ متبعین کے ایک ممتاز فرد تھے جنہوں نے علم و معرفت میں کمال حاصل کیا اور اپنی سچائی کے نو ر اور دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا منہ بند کر دیا۔مسیح پاک نے جو چشمہ فیض جاری کیا تھا، ہر قوم کو اس سے پانی پلانے میں حضرت چوہدری صاحب کا وجود باجود ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔آپ دینی اور دنیا وی دونوں لحاظ سے فتح و ظفر کا آئنیہ دار اور اسم بامسمی تھے اور اپنے جماعتی ، قومی اور بین الاقوامی