تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 135
۱۳۵ حضور کی زبانِ مبارک سے ذکر خیر حضرت خلیفۃ اصیح الرابع ” نے لے فروری ۱۹۹۴ء کو ایم ٹی اے کے روزانہ لائیو پروگرام بات چیت میں اسیران کا ذکر خیر فرمایا۔آپ نے بتایا کہ آج روز نامہ الفضل اور ماہنامہ انصار اللہ کے ایڈیٹر صاحبان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔اسی طرح ان کے پرنٹر اور پبلشر صاحبان بھی گرفتار ہیں۔الفضل کے خلاف اس الزام میں مقدمے درج ہوئے ہیں کہ الفضل میں خدا کا نام لیا گیا ہے اور انصار اللہ میں ایک ایسا مضمون شائع ہوا ہے جس میں اشاعت اسلام کے تذکرے ہیں۔یہ مقدمے حکومت کی بالا سطح پر زیر غور آتے ہیں اور ان کی ہدایت پر پولیس مقد مے قائم کرتی ہے۔ان مقدمات کی پہلے عبوری ضمانتیں منظور ہوئیں مگر ان کی توثیق نہ کی گئی اور پانچ افراد کی گرفتاری عمل میں آ گئی۔ان کے نام حضرت امام جماعت احمدیہ نے بیان فرمائے جو یہ تھے: مکرم مولا نانسیم سیفی صاحب ایڈیٹر الفضل۔ماہنامہ انصار اللہ کے ایڈیٹر مکرم محمد الدین صاحب ناز۔مکرم آغا سیف اللہ صاحب یہ ہمارے مربی تھے ، الفضل کے مینجر ( اور پبلشر ) ہیں اور ناظم دارالقضاء بھی ہیں۔چوہدری ابراہیم صاحب انصار اللہ کے پبلشر ہیں اور قاضی منیر احمد پریس کے انچارج (الفضل اور ماہنامہ انصار اللہ کے پرنٹر ہیں۔) حضرت امام جماعت احمد یہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اللہ کی طرف سے جتنی بھی آزمائش آئے گی، اس کے لئے ہم تیار ہیں۔وہ خود سنبھالے گا جس کی خاطر یہ قربانیاں دی جا رہی ہیں۔اپنے ان بھائیوں کی استقامت کے لئے دعا کریں۔خاص طور پر نسیم سیفی صاحب معمر اور کمزور ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو استقامت اور ہمت عطا کرے۔آسمان سے فیصلے صادر فرمائے۔زمین کے فیصلوں کی کوئی امید نہ رکھیں۔حضرت خلیفۃ اصبیح رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اہل پاکستان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی بعض دفعہ ایک کے بعد دوسری آزمائش کرتا ہے۔مومنوں کی اس لئے کہ ان کی ترقی ہوا اور دشمن کی اس لئے کہ ان کی اصلاح ہو۔اور ہر دفعہ اللہ تعالیٰ سزا میں تردد کرتا ہے اور ڈھیل دیتا ہے۔لیکن جب ایک دفعہ فیصلہ کر لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔پہاڑ بھی راہ میں آئے تو ریزہ ریزہ ہو جائے۔چاہے وہ عام حکومت ہو یا سپر طاقت ہو۔اہل پاکستان کو مخاطب ہوتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا آپ کی بھاری اکثریت شریف لوگوں پر مشتمل ہے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ احمدیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ظلم کی تاریخ میں بھیانک ترین ظلم ہو رہا ہے۔آپ کے پیاروں پر جو درود بھیجتے ہیں ، ان پر آپ مقدے کرتے اور سزائیں دیتے ہیں۔ایسی سزائیں کہ جو شاذ ہی کسی کو دی گئی ہوں۔مکہ میں حضرت بلال کو کلمہ پڑھنے پر سزا دی گئی۔مگر سزا