تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 93
۹۳ پاک سیرت پر روشنی ڈالتے ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورانِ سر کا عارضہ تھا۔ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس مرض کے علاج میں خاص ملکہ رکھتا ہے، اسے بلایا گیا۔اس نے حضور کو دیکھ کر کہا کہ دو دن میں آرام کر دوں گا۔یہ سن کر حضوڑ اندر تشریف لے گئے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے میں علاج ہر گز نہیں کرانا چاہتا۔یہ کیا خدائی دعوی کرتا ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی ہی روایت ہے کہ ایک دفعہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے۔مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمانِ مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اتارے جائیں۔چارپائی بچھائی جائے۔خادمان نے کہا کہ آپ خود اپنا سامان اتروا ئیں۔چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔دونوں مہمان اس پر رنجیدہ ہو گئے اور فوراً یکہ میں سوار ہو کر واپس روانہ ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ان کے پیچھے تیز قدم چل پڑے۔چند خدام بھی ہمراہ ہو گئے۔نہر کے قریب پہنچ کر ان کا یکہ مل گیا۔( یہ جگہ قادیان سے کم و بیش اڑھائی میل کے فاصلہ پر تھی ) حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا۔اور فرمایا کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت دکھ پہنچا ہے چنانچہ وہ واپس آئے اور مہمان خانہ میں حضور نے خود ان کے بستر اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر خدام نے سامان اتار لیا۔حضور نے اسی وقت دونواڑی پلنگ منگوائے اور ان پر بستر کر وائے اور جب تک ان کے لئے کھانا نہ آیا، وہیں بیٹھے رہے۔حضرت رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حضرت حافظ حامد علی صاحب نے بیان کیا کہ بعض دفعہ مرزا نظام دین کی طرف سے کوئی رذیل آدمی اس بات پر مقرر کر دیا جاتا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے۔چنانچہ بعض دفعہ ایسا آدمی ساری ساری رات گالیاں نکالتا رہتا تھا۔آخر جب سحری کا وقت ہوتا تھا تو حضرت جی کہتے کہ اب اس کو کھانے پینے کو کچھ دو۔یہ تھک گیا ہو گا اور گلا خشک ہو گیا ہو گا۔میں حضرت جی کو کہتی کہ ایسے کم بخت کو کچھ نہیں دینا چاہئیے تو آپ فرماتے کہ یہ اگر کوئی بدی کریں گے تو خدا دیکھ رہا ہے۔ہماری طرف سے کوئی بات نہیں ہونی چاہیئے۔سیرت حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی سیرت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی اور بزرگ صحابہ میں سے تھے۔آپ کو اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات نوٹ کر کے شائع کرنے کی خاص توفیق دی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں ۱۸۹۰ء میں میٹرک پاس کر لینے کے چند ماہ بعد ہی داخل ہو گئے اور اس نو عمری سے ہی حضور علیہ السلام کے فدائی ہو گئے۔