تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1049 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1049

۱۰۴۹ رپورٹس، مالی قربانی اور انصار اللہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تجاویز زیر بحث آئیں۔اسی روز انصار نے ٹیچی مان کی شاہراہ پر سفید کپڑوں میں ملبوس جلوس کی شکل میں مارچ کیا۔مکرم مولا نا عبدالوہاب بن آدم صاحب امیر و نائب صدر نے دعا کرائی۔یہ جلوس کا روں موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں پر مشتمل تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹیچی مان مارکیٹ جمعہ کے روز مصروف تر اور سب سے بڑی تجارتی مارکیٹ ہوتی ہے اور اس میں سے جلوس کو گذرنے کی اجازت دینے سے مقامی پولیس پس و پیش کر رہی تھی کیونکہ یہ مارکیٹ عام حالات میں بھی گاڑیوں، بسوں وغیرہ سے بھری رہتی ہے۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جب انصار کا یہ جلوس وہاں پہنچا تو عام گاڑیاں سڑک کے اطراف پر قطاروں میں کھڑی تھیں اور سڑک بالکل خالی تھی۔لوگ سڑکوں کی اطراف پر کھڑی گاڑیوں اور گھروں کی چھتوں پر سے جلوس کا نظارہ کر رہے تھے۔یہ سارا ماحول اس قدر پرکشش تھا کہ پیرا ماؤنٹ چیف اور دوسرے چیفس بھی اپنے شاندار محلات سے باہر آ کر مرحبا کہنے لگے۔جلوس واپس مقام اجتماع پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔مکرم مولا نا عبدالوہاب بن آدم صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں تعلیم کی ضرورت اوراہمیت پر زور دیا جس میں نئی اور چھوٹی نسل کو شامل کرنے کی تاکید کی۔اس غرض کے لئے دعا اور تد بیر دونوں ہتھیاروں کو بروئے کارلانے کی تلقین کی۔انصار اللہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں یہ عمر ہی کام کرنے کی عمر ہے کیونکہ انبیاء کی بعثت عموماً چالیس سال کی عمر کے بعد ہی ہوتی ہے۔لہذا انصار کو چاہیے کہ پہلے اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔پھر اپنے تجربہ اور علم سے اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کریں۔کیسٹ پروگرام کی اہمیت وضرورت کو واضح کیا اور فرمایا کہ ان کے ذریعہ دعوت الی اللہ کے دائرے کو وسیع کریں۔مقامی امیر مکرم نور دین آدم عطا صاحب نے رضا کارانہ خدمت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد انصار کوایسی خدمات پیش کرنے کی تحریک کی۔اس کے بعد ایک قدیم احمدی بزرگ مکرم سلیمان ٹیکیا صاحب نے برانگ اہا فو میں احمدیت کے ابتدائی ایام کی مشکلات اور ابتدائی احمدیوں کی جلیل القدر قربانیوں کا تذکرہ فرمایا اور انصار کو توجہ دلائی کہ وہ صداقت ، حوصلہ مندی اور دعاؤں کو اپنا شعار بنا ئیں اور اپنے سفید لباس کی طرح سفیدی اور پاکیزگی پیدا کریں۔مقامی مربی مکرم حافظ احمد جبرائیل سعید صاحب نے بچوں کی تربیت کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لئے خصوصی دعا ئیں کرنی چاہئیں نیز فاضل مقرر نے سادہ اخلاق کی عملی تربیت کے چھوٹے چھوٹے گر بتلائے۔اجتماع میں شرکت کرنے والے سب حکومتی نمائندوں نے اہل غانا کی دینی ، معاشی تعلیمی ، زرعی حالت اور صحت سے متعلق جماعتی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔برانگ اہا فو کے مقامی سیکرٹری اور نیچی مان کے ضلعی صدر بھی اس اجتماع میں شامل ہوئے۔مکرم پیراماؤنٹ چیف صاحب نے بھی انصار کے جذ بہ کی تعریف کی۔اجتماع میں دوسرے دن انصار کی حاضری ۷۴ ۷ تھی۔خدام اور لجنہ کی تعدا د اس