تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1023
۱۰۲۳ احمد صاحب راجپوت مستقلاً مکرم مولانا سید کمال یوسف صاحب کی معیت میں قرآن کریم انگلش ( ترجمہ ) کی تقسیم کرتے رہے۔اکتوبر ۱۹۸۱ ء تک قرآن کریم کی باون کا پیاں یونیورسٹی کے پروفیسرز اور دوسرے اعلی تعلیم یافتہ افراد میں تقسیم کی جا چکی تھیں۔مکرم نوراحمد صاحب بولستاد نے اخبارات میں اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کے جوابات دے کر ان کا ازالہ کیا۔سکولوں میں اسلام کے متعلق لیکچر ز دینے کا اہم کام بھی انہوں نے سنبھالا ہوا تھا۔شعبہ وقار عمل : انصار نے مسجد کی تعمیر و مرمت میں حسب استطاعت حصہ لیا اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔مسجد کی مرمت اور نئی تنصیبات کے کام کو مکرم عبد الغنی صاحب نے مستقل طور پر اپنی ذمہ داری سمجھ کر مکمل کیا اور ایک خطیر رقم کی بچت کر دی۔مکرم حنیف صاحب نے کمروں میں روغن کا کام خوبصورتی سے مکمل کیا۔مکرم سید محمود احمد صاحب زعیم اعلیٰ اور دوسرے احباب نے بھی مختلف اوقات میں حسب توفیق حصہ لیا۔عبد تعلیم : تفسیر سوره بقرہ از حضرت مسیح موعود کے نصف اول کا مطالعہ بطور کورس مقرر کیا گیا۔﴿۵۷﴾ ابتداء تنظیم میں پانچ چھ انصار تھے۔۱۹۸۷ء میں یہ تعداد ۲۳ تک پہنچ گئی۔تمام انصا را وسلو میں ہی مقیم تھے۔یکم فروری ۱۹۸۷ ء سے مجلس اوسلو کو تین زعامتوں میں تقسیم کر دیا گیا۔(۱) حلقہ ہول ملیا۔سات انصار پر مشتمل تھے۔زعیم مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب (۲) حلقہ مسجد نور۔دس انصار - زعیم مکرم زرتشت منیر احمد صاحب۔(۳) حلقه ستو دنر د آمر و۔چھ انصار۔زعیم مکرم چوہدری مقصوداحمد صاحب ورک۔سالانہ اجتماعات پہلا سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ ناروے کا پہلا سالانہ اجتماع ۹، ۱،۱۰ استمبر ۱۹۸۳ء کو اوسلو سے ۲۵۰ کلومیٹر دور ایک خوبصورت پہاڑ کے دامن میں جھیل کے کنارے گول کے مقام پر منعقد ہوا۔مہمان خصوصی مکرم مولانا حامد کریم صاحب مبلغ سویڈن تھے۔اس پہاڑ کی اونچی چوٹی پر تاریخ میں پہلی اذان تھی جو اس موقع پر بلند کی گئی۔پنجگانہ نمازیں اور نماز تہجد با جماعت ادا کی گئی۔مذہبی اور دینی مسائل پر علمی تقاریر ہوئیں۔قرآن مجید، حدیث اور ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درس دیئے گئے۔ایک مجلس سوال و جواب بھی منعقد ہوئی۔اجتماع کے موقع پر علمی اور ورزشی مقابلے ہوئے۔مقابلہ جات میں حفظ قرآن مجید ( وہ حصہ جو پہلے حفظ نہ کیا ہو ) کا مقابلہ بھی شامل تھا۔راستوں میں آتے اور جاتے ہوئے ہر جگہ اور گول کمیون کے علاوہ ساتھ والی دو کمیونوں میں جا کر لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ایک ہوٹل میں بھی لٹریچر دیا اور مقام اجتماع میں آنے والے گول اور درامن کے مئیرز کو بھی قرآن کریم اور دیگر کتب کے تھنے پیش کئے گئے۔سب نے بہت دلچپسی کے ساتھ لٹریچر وصول کیا۔بعض علمی ادارے بھی راستے میں آئے۔انصار نے وہاں جا کر زبانی دعوت الی اللہ کی اور لٹریچر کے ذریعہ بھی