تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1011 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1011

1+11 و جملہ اراکین مجلس انصار اللہ بھارت ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے پیارے بھائیو! اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان کا سایہ ہمیشہ آپ سب کے شاملِ حال رہے۔آمین۔مجھے یہ معلوم کر کے بے حد مسرت ہوئی کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان اور تائید و نصرت کے طفیل آپ مجلس انصار اللہ بھارت کا آٹھواں سالانہ اجتماع مورخہ ۸،۷ اخاء (اکتوبر) کو منعقد کر رہے ہیں۔میری اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ آپ کے اس اجتماع کو انتہائی با برکت بنائے۔اس کے مفید اور دیر پا نتائج ظاہر فرمائے۔اور باہمی مودت اور اخوت کی رُوح کے پروان چڑھنے کا یہ اجتماع مؤثر ذریعہ ثابت ہو۔آمین۔آٹھویں سالانہ اجتماع کے مبارک موقع پر میں آپ سب کو دوا ہم امور کی طرف اختصار سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔امر اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک ایسے شرف سے نواز رکھا ہے جو آپ کو دنیا بھر کے دیگر ممالک کے بالمقابل ممتاز ٹھہراتا ہے۔وہ امتیازی شرف یہ ہے کہ آپ ایسے عظیم الشان مقام پر جمع ہورہے ہیں۔جس کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے گئے اس عہد کو پورا کرنے کے لئے ذریعہ بنایا۔ایسے جلیل القدر مقام خدمت کا تقاضا ہے کہ اولاً آپ سب اپنے قلوب کو اس آسمانی نور سے پوری طرح منور رکھیں اور ہر آن ایک بے لاگ اور غیر جانبدار اور منصف کی طرح اپنے قلوب کا جائزہ لیتے رہیں۔کہ کسی گوشہ میں ظلمت کا سایہ نہ ہو۔ظلمت انسان کے باطنی نور کو داغدار کرنے کے لئے ہزاروں راہوں سے حملہ آور رہتی ہے۔آپ کسی حالت میں اور کسی بھی طور سے ظلمت کو قریب نہ آنے دیں اور اس نور کی اس طور پر حفاظت اور قدر کریں کہ یہ نور آپ کی اُخروی زندگی کو بھی منور کر دے۔ثانیاً ہمیشہ یاد رکھیں کہ سیدنا حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو جو نو ر نصیب ہوا وہ سرتا پا اُس نور کامل کی عاجزانہ غلامی کے نتیجہ میں نصیب ہوا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے فرماتا ہے۔جیسے فرمایا: 1 - فَامِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۴۸) ٢ - قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللهِ نُورُ وكتب مُّبِينٌ) اس نور کو آپ نے بھی اپنانا ہے اور اس سے باقی دنیا کی ظلمت کو دور کرنے کا سامان کرنا ہے کیونکہ اپنی فطرت کے لحاظ سے ٹور ایسی چیز نہیں جس کو پردوں میں چھپا کر رکھا