تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 976
حصہ آج میں خصوصی طور پر آپ کو انصار اللہ کی حیثیت میں مخاطب کر رہا ہوں اور انہی الفاظ میں مخاطب کرتا ہوں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے دو ہزار سال قبل استعمال کئے تھے کہ مَنْ أَنْصَارِى إلی اللہ کون ہے آپ میں سے جو میرے اس کام میں خدا تعالیٰ کی خاطر میری مدد کو آئے گا ؟ (اس پر احباب نے بیک زبان کہا نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ ) مجھے علم ہے کہ جو لوگ میرے خطاب کو سنتے ہیں ان کے دل اس پر لبیک کہتے ہیں اور وہ اس کام میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ان کی بدقسمتی ہے ابھی تک یہ لوگ اس اہم کام کے عادی نہیں ہوئے اور اس طریقہ سے اس کو سرانجام نہیں دیتے جس طرح ذمہ داری، محنت اور لگا تار کوشش سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری وہ ادا کرتے ہیں۔مختلف مجالس کچھ پروگرام تو بناتی رہتی ہیں لیکن وہ اجتماعی نوعیت کے کام ہوتے ہیں جیسے کہ کبھی کتب کی نمائش کا اہتمام کر لیایا بھی یوم تبلیغ منالیا۔ایسے پروگرام کا کچھ فائدہ تو ہوتا ہے لیکن یہ کام کافی نہیں ہے۔ہم یہ جنگ جیت نہیں سکتے ، کسی کے عقائد اور خیالات کو بدلنے کی جنگ ، جب تک ہمارے ہر آدمی کا رابطہ انفرادی طور پر کسی آدمی سے براہ راست نہ پیدا ہو۔ہمیں ایسے سپاہی بننا ہے جن کو گویا دست بدست جنگ میں۔لیتا ہے۔یہ درست ہے کہ ہمارے پاس دلائل ہیں ، لٹریچر ہے اور دیگر ذرائع ہیں۔لیکن میدان جنگ میں علاقہ جیتنے اور اسے قبضہ میں رکھنے کے لئے سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ سپاہیوں کو افسروں اور اسلحہ اور سپلائی اور کوریج کی مدد درکار ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی اٹل حقیقت یہی ہے کہ جب تک میدان جنگ میں سپاہیوں کی موجودگی کے ساتھ علاقہ پر قبضہ نہ کیا جائے۔اور وہ سپاہی اس علاقہ میں قبضہ رکھنے کے لئے موجود نہ رہیں، باقی تمام ذرائع کے ساتھ ساتھ ، علاقہ فتح نہیں کیا جا سکتا۔لہذا ہمیں سپاہیوں کی ضرورت ہے جو فردا فردا تبلیغ کے میدان میں جہاد کر رہے ہوں۔یہ نہ صرف میرا تجربہ ہے بلکہ تاریخ احمد بیت اس پر گواہ ہے کہ جس دور میں بھی بیعتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس دور میں زیادہ افراد نے انفرادی طور پر تبلیغ کے کام میں حصہ لیا ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو داعی الی اللہ بنا ہے اور انفرادی طور پر اگر ہم میں سے ہر ایک ایک سال کے اندر ایک احمدی بنائے تو اس وقت آپ کی موجودہ پانچ سو پچاس کی تعداد کے حساب سے اگلے سال یہ تعداد پانچ سو پچاس مزید بڑھ جانی چاہئے۔لیکن اس سال صرف پینتالیس بیعتیں ہوئی ہیں۔اور ان میں وہ بیعتیں بھی شامل ہیں جو مبلغین کا نتیجہ ہیں۔اگر چہ بعض مبلغین بھی ایسے ہیں کہ سارے سال میں وہ ایک بیعت بھی نہیں کروا سکے تو یہ صورت حال ہرگز تسلی بخش نہیں۔بلکہ بڑی پریشانی کا موجب ہے۔