تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 975
۹۷۵ اکثر کام اس وقت ہوا جب آپ کی عمر چالیس سال سے تجاوز کر چکی تھی۔اگر ان کی کل عمر جو ساڑھے بہتر یا تہتر سال کی تھی ، میں سے چالیس سال منہا کر دیں تو باقی تینتیس سال کے عرصہ میں آپ نے یہ تمام کام سرانجام دیئے۔عام طور پر ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ انسان ایسے تحریری کام بیٹھ کر کیا کرتا ہے۔لیکن را وی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریری کام چلتے چلتے کئے۔جس دالان میں آپ ٹہلا کرتے تھے ، اس کے دونوں کونوں میں آپ کا غذ اور قلم دوات رکھ دیتے تھے۔آپ چلتے چلتے ایک فقرہ سوچتے اور اسے ایک طرف کے کاغذ پر تحریر فرما دیتے پھر دوسری طرف پہنچتے پہنچتے دوسرا فقرہ سوچ لیتے اور اسے دوسرے کاغذ پر تحریر فرما دیتے۔اور اس طرح آپ نے تحریری کام سرانجام دیئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی صحت کا ہمیشہ بہت خیال رکھا۔بلکہ بعض دفعہ تو مگدر کو بھی آپ نے ورزش کی خاطر گھمایا۔یہاں حضور نے دریافت فرمایا کہ مگدر کا ہم معنی لفظ انگریزی میں کیا ہے تو ایک دوست نے عرض کیا۔BASE BALL کا ریکٹ اس سے ملتا جلتا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہاں مگر مگدر اس سے کہیں زیادہ وزنی ہوتا ہے ) چنانچہ صحت کا اتنا خیال رکھنے کا نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعود بہت طاقتور اور صحت مند انسان تھے۔کام کے ساتھ صحت کا خیال رکھیں انصار اللہ کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ آپ کو اپنے ذہنی کام اور ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ صحت کا بھی پورا خیال رکھنا ہو گا۔اس لئے مجلس انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ انصار کے لئے صحت کو برقرار رکھنے والے پروگرام مرتب کرے۔میں زیادہ سخت ورزش کا خواہشمند نہیں ہوں کیونکہ ممکن ہے اس سے بجائے فائدے کے صحت کو نقصان پہنچے۔اپنی جسمانی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی ورزش میں حصہ لیں جو نقصان دہ نہ ہواور اس سے فائدہ پہنچے۔ان ہدایات کی حدود میں رہتے ہوئے مجالس پروگرام بنا ئیں اور انصار بھی فرداً فرداً اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کوشش کرتے رہیں۔انصار داعی الی اللہ بنیں دوسری بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ داعی الی اللہ بنیں۔پچھلے کئی سال سے میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ فرداً فرداً دوستوں کو تبلیغ کا کام سرانجام دینا چاہئیے۔اکثر میرے مخاطب خدام الاحمدیہ اور ساری جماعت عمومی طور پر مخاطب ہوا کرتی تھی مگر