تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 962
۹۶۲ توازن بگڑ جائے گا اور اس کی رفتار تیز ہونے کی بجائے کم ہوتی جائے گی جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔یہی حال تبلیغ نہ کرنے والی جماعت کا ہوتا ہے اور یہ ایک ایسی سزا ہوگی جو ہم اپنے ہی ہاتھوں اٹھا ئیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ جماعت جو دوسروں کو اپنے اندر شمولیت کی دعوت دینے کے فریضے کو بھلا بیٹھے ، وہ اپنی اولادوں کو بھی کھو دیتے ہیں اور ان بلندیوں کو کھو دیتے ہیں جو انہوں نے پہلے حاصل کی تھیں اور ہر پہلو سے اچھائی کا معیار گرنے لگتا ہے۔اسی طرح جماعت کی اندرونی تربیت کی ضامن بھی وہ تبلیغ ہے جو بیرونی دنیا میں کی جاتی ہے۔اگر آپ تبلیغ کا معیار گرادیں تو آپ کبھی بھی اخلاق کے اس اعلیٰ معیار کو قائم نہیں رکھ سکتے جس کی آپ سے توقع کی جاتی ہے۔وہ قوم جو اپنے اندر ہی گھومتی رہے اُس میں عبادت، اخلاق اور قربانی کا معیار بھی گر جاتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد ایسی قوم باقی دنیا سے بالکل کٹ کر رہ جاتی ہے اور وہ اس حیثیت کو اس لئے قبول کر لیتے ہیں کہ یہ ایک آسان رستہ ہے۔پس جو قو میں علاوہ دیگر اسباب کے بنیادی طور پر تبلیغ کے ذریعہ پھیلنے کے واسطے بنائی گئی ہیں اور یہ اسباب متعدد ہوتے ہیں جنہیں یکے بعد دیگرے بیان کیا جا سکتا ہے۔ایسی قوموں کے لئے تبلیغ کرنا لازمی ہو جاتا ہے اور اگر آپ کے لئے تبلیغ کے ذریعہ پھیلنا مقدر ہے مگر آپ اس میدان میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا لازمی انجام یہی ہو گا کہ باقی دنیا کے ساتھ آپ کی طرف سے ناپسندیدہ دشمنی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اب اس صورت حال میں مسئلہ کے حل پر غور کرنا چاہئے۔ایسی صورت میں دو قسم کے رد عمل ظاہر ہوا کرتے ہیں۔کچھ لوگ مکمل شکست قبول کر لیتے اور اپنے مخصوص دائرہ میں ایسے بند ہو کر رہ جاتے ہیں کہ باقی دنیا کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔اس قسم کے گروہ آج کل مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور غیر مسلموں میں بھی۔دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ آپ جنگ و جدل کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور آپ سوچنے لگتے ہیں کہ اب ہم پر اتنا ظلم ہو چکا ہے کہ ہمیں انتقام لینے کا حق حاصل ہے۔یہی وہ رد عمل ہے جو آج کی یہودیت نے اختیار کیا ہوا ہے جسے صیہونیت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔لیکن یا درکھئے آپ کے لئے ان دونوں میں سے کوئی بھی رد عمل جائز نہیں۔آپ کی تقدیر یہ ہے کہ آپ نے ساری دنیا میں ایک عظیم انقلاب بر پا کرنا ہے لیکن اس مقصد کے لئے جس تڑپ کا ہونا ضروری ہے وہ بہت سے احمدیوں میں پائی نہیں جاتی۔بہت سے احمدی تبلیغ کی اہمیت کو محسوس نہیں کر رہے۔بہت سے ایسے احمدی ہیں جنہیں ابھی یہ احساس نہیں کہ وہ اس دنیا میں اس وقت تک باعزت طور پر زندہ نہیں رہ سکتے جب تک وہ دوسری دنیا کو پوری ذمہ داری کے ساتھ تبلیغ نہیں کرتے۔تبلیغ کا کام بہت فرحت بخش ہے۔یہ کوئی ایسا کام نہیں جو زندگی کو بدمزہ کر دے۔میں آپ کو بار بار اس طرف متوجہ کر چکا ہوں کہ آپ اس کام سے ڈرتے کیوں ہیں۔بے شک یہ کام مختلف قسم کی دشمنیوں کو جنم دیتا ہے لیکن وہ دشمنیاں یک طرفہ ہوتی ہیں۔آپ اپنے مخالفوں کے دل جیتنا چاہتے ہیں اور وہ آپ کے دلوں کو تباہ کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔پس یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جو دو مختلف نظریوں کے ساتھ لڑی جارہی ہوتی