تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 959
۹۵۹ ان میں بتایا گیا ہے کہ آپ سب میں چنندہ افراد ہیں۔آپ وہ لوگ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا ہے کہ جب حضرت عیسی نے اپنے حواریوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کون ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے میرے مددگار ہوں گے تو حواریوں نے فوراً جواب دیا۔محسن انصار اللہ کہ ہم ہیں وہ جو خدا کے دین کے لئے مددگار ہوں گے۔اگر چہ ان آیات میں مخصوص طور پر ایسے لوگوں کا ذکر نہیں کیا گیا جن کی عمر چالیس سال سے زائد ہے لیکن حضرت مصلح موعود نے اسی غرض سے انصار اللہ کی اصطلاح قرآن کریم سے لی تا آپ کو ہمیشہ یاد دہانی ہوتی رہے کہ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت اور حضرت مسیح موعود کے مشن کی تکمیل کے لئے ہمیشہ صف اول میں رہنے کا عہد کیا ہے پس آپ کو جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیموں میں سب سے فعال تنظیم ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں میں اپنے انصار بھائیوں کو اس طرف بھی بار بار متوجہ کرتا رہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے تو سوائے شاذ کے وہ چالیس سال کی عمر والوں میں سے ہی ہوتا ہے۔اب اگر چالیس سال کے بعد کام کرنے والی زندگی ختم ہو چکی ہے اور ریٹائرمنٹ کی عمر شروع ہو جاتی ہے تو پھر الہی انتخاب درست معلوم نہیں ہوتا اور یہ بات ناممکن ہے۔اصل حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیادہ ذمہ داری کا کام انہی لوگوں کو دیا جاتا ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچ چکتے ہیں اور انبیاء کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے کام میں کمی واقع ہونے کی بجائے اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جد و جہد تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ موت کا وقت آ جاتا ہے اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو جاتے ہیں۔وہ آخر دم تک کام کرتے رہتے ہیں اور ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے آخری لمحہ تک کام کی تو فیق پاتے رہیں۔مندرجہ بالا امور کے پیش نظر اور بعض اور اسباب کے پیش نظر جن کو یہاں بیان کرنے کا وقت نہیں ، میں یہ امر خاص طور پر آپ کے ذہن نشین کروانا چاہتا ہوں کہ آپ عمر کے ایسے حصہ سے تعلق رکھتے ہیں جن میں انسان کو سب سے زیادہ نتیجہ خیز اور سب سے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہئے اور آپ کو بار بار یاد دہانیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔آپ اس عمر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے مُذكَرِین یعنی نصیحت کرنے والے مقرر کئے جاتے ہیں اور وہ خود نصیحت کے محتاج نہیں ہوتے۔پس آپ ساری احمدیت کے نگران ہیں۔آپ بلا امتیاز عمر احمدیت کے تمام نوجوانوں ، بچوں اور مستورات کے نگران ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اعلیٰ کردار اور اعلیٰ صفات کے محافظ ہیں۔اگر آپ دیکھیں کہ بعض افراد کسی قسم کی کمزوری کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو آپ کے دل و دماغ میں فورا خطرہ کی گھنٹی بجنی چاہئے اور اس کو دور کرنے کے لئے مجلس انصاراللہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ذمہ دار ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جماعت احمدیہ کے خلفاء بدی کو مٹانے اور نیکی کو قائم کرنے کا کام انصار اللہ کے سپرد کرتے رہے ہیں۔علاوہ ازیں چونکہ اکثر اوقات خاندان کے سر براہ انصار اللہ کے