تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 953
۹۵۳ اس موقع پر ایک بک سٹال بھی لگایا گیا جس میں یکصد پونڈ سے زائد کی کتب فروخت ہوئیں۔آغاز میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع اور صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔پیغام سید نا حضرت خلیفہ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ و بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دیار غرب میں بسنے والے میرے عزیز انصار بھائیو! مکرم محترم شیخ مبارک احمد صاحب امیر و مشنری انچارج نے یہ اطلاع بھجوائی ہے کہ انگلستان کی مجلس انصار اللہ کا اجتماع جون میں منعقد ہو رہا ہے۔انہوں نے اس مبارک اجتماع کے لیے پیغام بھجوانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس اجتماع میں اپنے فضلوں سے برکت ڈالے۔اس اجتماع میں شامل ہونے والے اور بوجہ مجبوری شامل نہ ہو سکنے والے سبھی پر اپنے فضلوں کی موسلا دھار بارش نازل فرمائے۔آمین الحمد للہ کہ ذیلی تنظیمیں بھی بیرونی ممالک میں دن بدن مضبوط ہوتی جارہی ہیں اور اپنے فرائض کو پہچان رہی ہیں۔چالیس سال سے زائد عمر کے احمدیوں کی اس تنظیم کا نام انصار اللہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تجویز فرمایا تھا۔اور یہ آپ جانتے ہیں کہ اس نام کے ساتھ جانثاری اور فدائیت کی روایات وابستہ ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں فرماتے ہیں : فَلَمَّا أَحَبَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِثُوْنَ نَحْنُ انصارُ اللهِ أَمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدُ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (ال عمران - آیت ۵۳) کہ جب خدا کے ایک بندے نے اپنی قوم سے انکار کا خطرہ محسوس کیا تو اپنے مخلص ساتھیوں کو یہ کہہ کر آواز دی کہ "مَنْ أَنْصَارِی إِلَی اللہ “ کہ کون ہے جو آج محض اللہ کی خاطر میرا مددگار بنے کو تیار ہے۔اس کے جواب میں مخلصین نے یہی نعرہ بلند کیا کہ ”نَحْنُ انصار اللہ “ اور یہ جواب ان کا خدا پر پختہ ایمان کی وجہ سے تھا۔اور پھر انہوں نے اپنے عمل سے گواہی دی کہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ “ انہوں نے اپنی گردنِ اطاعت خدا کی رضا کی چھری کے نیچے رکھ دی۔وَاشْهَدْ بِأَنَا مُسْلِمُونَ کا یہی مفہوم ہے کہ ان کا عمل ان کے قول کی تائید