تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 781 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 781

ZMI اللطیف صاحب کے ساتھ زعیم مقامی مکرم چوہدری نعمت اللہ صاحب ، نائب ناظم ضلع مکرم محمد صدیق صاحب اور زعیم صاحبان مجالس نے اجتماع کو ہر جہت سے کامیاب بنانے کے لئے خصوصی کوشش کی جس کے نتیجہ میں ضلع کی مجالس میں سے ساٹھ نمائندگان اور مقامی جماعت کی بھاری تعداد اجتماع میں شریک ہوئی۔صرف دو مجالس کے نمائندے بعض مجبوریوں کے تحت شریک نہیں ہو سکے۔پروگرام کے مطابق نماز جمعہ کے بعد مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نمائندہ مرکز کی زیر صدارت اجتماع کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جو مکرم ماسٹر صدیق سلیم صاحب نے کی۔عہد کے بعد منشی محمد رفیق صاحب نے درمشین سے ایک نظم سنائی۔مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے نہایت موثر انداز میں اجتماع کے اغراض و مقاصد اور جماعتی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی نیز اس سوال کے جواب میں کہ کیا خلافت راشدہ کی طرح خلافت احمد یہ بھی چوتھے خلیفہ کے بعد ختم ہو جائے گی ، ایک نہایت مدلل اور پُر جوش تقریر فرمائی جس میں ثابت کیا کہ یہ خلافت کا انعام جماعت احمد یہ میں نشاء اللہ تعالیٰ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جماعت اپنے آپ کو اس انعام کی اہل ثابت کرتی رہے گی۔فاضل مقرر نے بہت سی مثالیں دے کر واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا ہر فرد اپنے تئیں ثابت کر رہا ہے کہ وہ اس انعام کا حقدار ہے۔چھوٹے بچوں میں بھی احمدیت اور اپنے خلیفہ سے عشق کا سمندر موجزن ہے لہذا ان سے اندریں حالات اس نعمت کے چھن جانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔افتتاحی خطاب کے بعد مولانا نذیر احمد صاحب ریحان نے نہایت پر اثر انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عدیم المثال مقام حضرت اقدس کی نظر میں“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔مکرم بابو محمد احمد صاحب نے خلافت رابعہ کا قیام اور ہماری ذمہ داریاں کے موضوع پر اپنے خاص انداز میں تقریر فرمائی۔اس تقریر کے بعد مرکزی نمائندہ کراچی ایکسپریس سے کراچی روانہ ہو گئے۔آپ کی جگہ مکرم میر نور احمد صاحب امیر مقامی نے کرسی صدارت سنبھالی اور اجلاس جاری رہا۔موقعہ کے لحاظ سے پروگرام میں سپین اور مسجد بشارت“ کا موضوع رکھا گیا۔نیز مرکزی تحریک کے مطابق مسجد میں خوب سجاوٹ کی گئی اور بڑے بڑے بینر مسجد کی دیواروں پر لگائے گئے۔جن پر جشن افتتاح مسجد بشارت سپین“ لکھا ہوا تھا۔اسی طرح مسجد کے اندر اور باہر اقوال زریں سے مزین بینر لگے ہوئے تھی۔دیگیں پک رہی تھیں۔رنگ برنگ کی جھنڈیاں اور قمقمے اور خوبصورت ٹینٹ جشن کا سماں پیدا کر رہے تھے۔اجتماع کے پروگرام سے اس جشن کی رونق دوبالا ہو گئی تھی۔شرکاء اجتماع کی چائے اور مٹھائی سے تواضع کی گئی۔مکرم مولا نا محمد اشرف صاحب ناصر نے اپنی تقریر میں پین کا اوّل سے آخر تک کے حالات و واقعات کا تذکرہ کیا۔خدام اور انصار کے مابین والی بال کا میچ شام کو کھیلا گیا۔نماز عصر سے نماز مغرب تک مختلف مقابلہ