تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 54 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 54

۵۴ نمبر شمار نام سائیکل سوار مکرم منظور احمد صاحب ۱۹۱ ۱۹۲ مکرم مختار احمد صاحب ۱۹۳ مکرم ظہور احمد صاحب ۱۹۴ مکرم منور احمد صاحب ۱۹۵ مکرم ماسٹر عطاء اللہ صاحب نعیم ۱۹۶ مکرم سلطان احمد صاحب سائیکل سفر کے دلچسپ تجربات شو کام کے لالم في گے او ۴۷ ۴۵ ۶۰ " ضلع فاصله(میل) " " " " " " اور حمہ تخت ہزارہ " " " " " = یہاں اجتماع میں شرکت کے لئے دور دور سے انصار مرکز سلسلہ میں تشریف لانے والے تین انصار بھائیوں کے دلچسپ اسفار کا ذکر کیا جاتا ہے۔جس میں ”جوانوں کے جوانوں نے اپنے پیارے امام کی خواہش کی تکمیل میں غیر معمولی بلند ہمتی کا مظاہرہ کیا۔(1) سائیکل سفر از میر پور خاص تار بوہ مکرم ما سٹر رحمت علی صاحب ظفر کریم نگر ضلع میر پور خاص تحریر کرتے ہیں: الْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ الْحَمدُ للهِ کہ خاکسار کو گذشتہ سال ۱۹۸۱ء اور امسال ۱۹۸۲ ء اس تحریک میں شامل ہوتے ہوئے سات سو پچاس میل کا سفر کرنے کی توفیق ملی۔گذشتہ سال ہم دو انصار خدام کے قافلہ کے ساتھ گئے تھے۔امسال بھی ہم دو انصار ایک خادم کے ساتھ ایک چھوٹے سے قافلے کی شکل میں گئے۔امسال جانے والے ایک انصار ممبر پچھتر سالہ تھے جن کا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے علی محمد صاحب آف محمود آباد فارم ( کنری ) نام لے کر تعریفی کلمات سے یا د فر مایا اور خاکسار کو بیالیس سالہ نوجوان ( میری عمر اس وقت پچاس سال ہے ) رستہ میں تیل کی بوتل بھول جانے والا بیان فرمایا۔تیسرا ہمارا خادم شیخ فضل الرحمن صاحب کو نو مسلم احمدی اور تیسری دفعہ سندھ سے سائیکل پر جانے والے کے متعلق تعریفی ارشادات سے یا دفرمایا۔میرے ان دونوں ہمسفروں کو حضور پر نور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت دو دو سو روپیہ کے انعامات سے بھی نوازا اور دیگر دوستوں نے بھی حوصلہ افزائی فرمائی۔جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو ہمارا قافلہ ساڑھے نو بجے صبح میر پور خاص سے روانہ ہوا۔اُس روز سامنے سے زور کی ہوا چلی جس کی وجہ سے اُس روز پچاس میل سفر کر کے شام کو شہداد پور پہنچے۔اوسط رفتار ساڑھے سات میل فی گھنٹہ تھی۔وہاں مکرم چوہدری خلیل احمد صاحب امیر ضلع سانگھڑ کے ہاں ٹھہرے۔انہوں نے بے حد خدمت کی سحری کے وقت از خود عمدہ ناشتہ تیار کرایا۔نماز فجر کے بعد دعا کرا کر ۱۳۰ کتوبر ۱۹۸۲ء کی صبح کو روانہ