تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 768
۷۶۸ حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی اپنی نظم ”اللہ بس۔باقی ہوس“ تو کمال کی حدوں کو چھورہی ہے۔بہر حال رسالے کی تیاری پر اچھی محنت اور کوشش ہوئی ہے۔اللہ قبول فرمائے اور سب کام کرنے والوں کو اس کی بہترین جزاء عطاء فرمائے۔انہیں میری طرف سے محبت بھرا سلام اور مبارک باد ، خدا حافظ و ناصر ہو۔“ (لندن-۱۹۹۵-۵-۱۷) خصوصی مضامین کی اشاعت: تاریخ احمدیت سے تعلق رکھنے والے حالات و واقعات کے حوالہ سے خصوصی مضامین شائع کئے گئے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مقدمہ قتل اور بریت۔کیپٹن ایم ڈبلیوڈ گلس کے احوال و کوائف۔پنڈت لیکھرام کے بارے میں پیشگوئی اور اس کا انجام۔یومِ مسیح موعود، یوم مصلح موعود، یوم خلافت اور جلسہ سالانہ کی مناسبت سے بعض اہم مضامین بھی اشاعت پذیر ہوئے۔مجالس کی رپورٹ اور متفرق امور : مجالس انصار اللہ کے اجتماعات علمی و ورزشی مقابلوں ، تفریحی پروگراموں اور مرکزی شعبہ جات کی کارگزاری پر مشتمل رپورٹوں کی اشاعت بھی ہوتی رہی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجلس انصار اللہ پاکستان کے تعمیر کردہ المہدی ہسپتال کے سنگ بنیا د اور افتتاح کی رپورٹ بھی با تصویر شائع کی گئی۔علاوہ ازیں سالانہ مساعی پر حکم انعامی اور اضلاع و مجالس کی پوزیشن، سہ ماہی تعلیمی امتحانات کے نتائج اور مجلس عاملہ کے عہدیداران کے تقرر کی فہرستیں بھی شامل اشاعت ہوتی رہیں۔مقدمات : ۱۹۸۴ء کے رسوائے زمانہ صدارتی آرڈینینس کے نفاذ کے ساتھ ہی ماہنامہ انصار اللہ کے ایڈیٹرز ، مینجر ، پرنٹر، پبلشر، مضمون نگاروں اور خوشنویس پر دفعہ ۲۹۸ سی اور ۲۹۵ سی کے تحت مقدمات بنائے گئے اور کارکنوں کی قید و بند کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ مقدمات ابھی تک زیر سماعت ہیں۔مقدمات کیا ہیں؟ کس جرم کی پاداش میں مظلومین کو عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ؟ یہ ایک الگ مضمون اور طویل داستان ہے۔انصاف کی سوچ رکھنے والے اس پر قلم اٹھا ئیں گے اور چھپے ہوئے کرداروں سے پردہ اٹھائیں گے۔یہاں صرف ان حضرات کے اسماء دئیے جا رہے ہیں جنہیں مقدمات میں ملوث کیا گیا۔مدیران: مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف مکرم مرز امحمد الدین ناز صاحب - مکرم سید عبدالحمی شاہ صاحب پبلشر: مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب پرنٹر : مکرم قاضی منیر احمد صاحب مضمون نگار : مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب - مکرم محمود احمد اشرف صاحب۔مکرم مشہوداحمد شاہد صاحب خوشنویس: مکرم حمید الدین صاحب واضح رہے کہ انصار اللہ کے پبلشر اور پرنٹر پر تو دو دو درجن سے زائد مقدمات قائم کئے گئے۔مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب، مکرم چوہدری محمدابراہیم صاحب اور مکرم قاضی منیر احمد صاحب بہ ہمراہ مکرم مولا ناسیم سیفی صاحب اور مکرم آغا سیف اللہ صاحب اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔