تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 757
۷۵۷ (۱) سیرت النبی پر مضامین: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہماری اخلاقی اور روحانی نشو ونما کے لئے نہایت ضروری اور تربیت کے نقطہ نگاہ سے بڑی اہمیت کا موجب ہے۔اس اہم غرض کیلئے ماہنامہ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر دوسرے تیسرے شمارے میں مضامین شائع کئے جاتے رہے۔خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے انتہا درجہ کی محبت اور آپ کی عبادات“ کے موضوع پر آٹھ اقساط پر مشتمل ایک مضمون اگست ۱۹۹۵ء پرست تامئی ۱۹۹۶ء کے شماروں میں شائع کیا گیا جس پر قارئین نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔(۲) سیرت صحابہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ روشنی کے مینار اور ہدایت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔چنانچہ اداریوں ، مضامین اور آرٹیکلز میں صحابہ کی سیرت اور سوانح اور قربانیوں پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی جو ماہنامہ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔(۳) حضرت مسیح موعود کی سیرت طیبہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح و سیرت اور اپنے آقا سے محبت اور عشق کے مختلف پہلوؤں پر مضامین شائع کئے گئے جس سے احمدی احباب کے ایمانوں کو جلا حاصل ہوئی۔حضرت اقدس کے عشق رسول ، عشق قرآن ، خدمتِ دین، انسانیت کے لئے ہمدردی ، اخلاق حسنہ اور عادات واطوار کے بارے میں بکثرت مضامین اشاعت پذیر ہوئے جنہیں بہت سراہا گیا۔(۴) ”مبارک وہ جواب ایمان لایا نئی نسلوں کی ریفارمیشن اور انہیں اعلیٰ اقدار پر قائم رکھنے کے لئے رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت و سوانح ، ان کا اخلاص و وفا اور قربانیوں پر سلسلہ مضامین بعنوان "مبارک وہ جواب ایمان لایا ماہنامہ کی زینت بنا جسے احباب دلچسپی سے پڑھتے رہے۔اس سے اپنے بزرگوں کے حالات تحریر کرنے کا ذوق بھی اجا گر ہوا۔(۵) خطبات حضور انور پر مشتمل ضمیمہ جات : ۱۹۸۴ء کے بدنام زمانہ آرڈینینس کے بعد ضمیمہ جات کی شکل میں ماہنامہ انصار اللہ کا ایک اہم کردار سامنے آیا۔روزنامہ الفضل“ پر پابندی لگنے کی وجہ سے حضور انور کے ایک خطبہ جمعہ اور جماعتی مصروفیات کا خلاصہ اور دیگر خبریں اور اعلانات ضمیمہ کی صورت میں ماہنامہ کو ہر ماہ شائع کرنے کی سعادت حاصل رہی۔ماہنامہ انصار اللہ کے علاوہ دوسرے مرکزی رسائل بھی ضمیمہ جات شائع کرتے رہے۔اس طرح احباب جماعت کو بے خبر رکھنے کا حکومتی منصو بہ اللہ تعالی کے فضل سے خائب و خاسر رہا۔یہ سلسا الفضل کے دوبارہ اجراء تک جاری رہا۔یادر ہے یہ پابندی ۱۳ دسمبر ۱۹۸۴ء سے ۲۸ نومبر ۱۹۸۸ء تک رہی۔(1) مستقل اور مروجہ کالم مختلف موضوعات پر جاندار تربیتی اور علمی ادارئیے سپر قلم کئے جاتے رہے۔مختلف مواضیع پر حضرت اقدس اور خلفائے سلسلہ احمدیہ کے ارشادات، نیز عربی ، فارسی اور اردو منظوم کلام نیز ” تبرکات“ با قاعدہ شائع کئے جاتے رہے۔اداریوں میں سیرت النبی ، رمضان المبارک، یوم مسیح موعود یوم خلافت اور جلسہ سالانہ موضوع سخن رہے۔مکرم شیخ عبدالقادر صاحب محقق عیسائیت کے تحقیقی مضامین اکثر و بیشتر رسالہ کی زینت بنتے رہے۔(۷) علمی مضامین: ماہنامہ اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے بلند پایہ علمی اور تحقیقی مضامین شائع کرتا رہا۔