تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 689 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 689

۶۸۹ تجویز نمبر ۴ ( قیادت مال) بجٹ آمد و خرچ بابت سال ۱۳۶۸هش/ ۱۹۸۹ء ۳۲،۴۶۰ ۲۴۰ رو پے مبلغ چوبیس لاکھ بتیس ہزار چار سو ساٹھ روپے صرف سفارش شوری : شوری حسب ذیل تفصیل کے مطابق مجوزہ بجٹ آمد و خرج منظور کئے جانے کی سفارش کرتی ہے۔۳۰۲۷۵۵ ۵۴۲۱۰۰ ۳۸۳۶۰۰ ۶۸۵۰۰ ۷۸۰۴۵ 12۔۔۔۔۶۰۰۰۰ ۵۰۰۰۰۰ ۲۴۳۲۴۶۰ خرچ عمله سائز گرانٹ مقامی مجالس گرانٹ ناظمین اضلاع ریز رو اضافه جات دوران سال سالانہ اجتماع اشاعت لٹریچر اخراجات گیسٹ ہاؤس سائر ماہنامہ انصار الله میزان ۱۳۷۵۰۰۰ ۶۰۰۰۰ ۵۰۰۰۰۰ ۳۲۷۴۶۰ ۲۴۳۲۴۶۰ آمد چند مجلس سالانہ اجتماع اشاعت لٹریچر عطایا گیسٹ ہاؤس ماہنامہ انصار الله میزان سفارش صدر مجلس نہ اتفاق ہے۔فیصلہ حضرت خلیفہ اسی : حضور نے کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔دستخط حضورانور ۸۹-۱-۱۳ ۱۹۸۹ء تجویز نمبر : مجلس انصار اللہ کے زعماء اور ناظمین اضلاع اگر چہ اپنی اپنی مجالس عاملہ بناتے ہیں اور حسب قواعد اس کی منظوری حاصل کرتے ہیں مگر عموماً مجلس کا سارا کام زعما کرام یا ناظمین اضلاع کو ہی کرنا پڑتا ہے۔اراکین مجلس عاملہ کا تعاون بہت کم ملتا ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مجلس شوریٰ انصار اللہ مناسب اقدامات کرے۔“ ( نظامت انصار اللہ جہلم) سفارش شوری: ناظمین اضلاع اور زعماء باقاعدگی سے ہر ماہ اپنی مجالس عاملہ کے اجلاس کرتے ہوں تو یہ مشکل پیش نہیں آسکتی۔اور اگر پیش آئے تو بھی آسانی سے حل کی جاسکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ زعماء اور ناظمین اپنی اپنی عاملہ کو ساتھ لیکر چلیں اور بار بار کام کرنے کی تحریک کرتے رہیں۔تجویز اتفاق سے نا منظور کرنے کی سفارش کی گئی۔سفارش صدر مجلس: کثرت رائے سے اتفاق ہے۔تجویز نمبر۲: دستور اساسی انصار اللہ کے قاعدہ نمبر ۲ے کی رو سے مجلس مشاورت میں مجالس کے زعماء اعلی اور زعماء مقامی کی حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔اس سلسلہ میں تجویز ہے کہ قاعدہ نمبر ۲ے کے بعد قاعدہ نمبر ے الف کا اضافہ کیا