تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 673 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 673

۶۷۳ اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان اپنے پیارے امام موصوف کے والدین محترم صاحبزادہ مرزا مجید احمد سلمہ اللہ و صاحبزادی قدسیہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ اور موصوف کی بیگم صاحبزادی امتہ الناصر نصرت اور بچوں کے ساتھ شریک غم ہیں۔اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور عالمگیر جماعت احمدیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔بروفات حضرت سیّدہ ام متین صاحبہ رحمہا اللہ تعالی مجلس انصار اللہ پاکستان کا یہ اجلاس ام امتہ المتین حضرت سیدہ مریم صدیقہ رحمہا اللہ تعالی حرم حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کی المناک وفات پر دلی رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔حضرت سیدہ کی زندگی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا نمونہ تھی۔اماں جان حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم نور اللہ مرقدہا کے بھائی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی اولا دنو بھائی بہنوں میں آپ سب سے بڑی تھیں۔۷ اکتوبر ۱۹۱۸ ء کو پیدا ہوئیں تو والد گرامی کی تمنا تھی کہ خدائے قادر وکریم کے حضور نذر پیش کریں۔اسی بناء پر ولادت پر نام مریم رکھا اور نذرالہی بھی۔گھر کا ماحول اسی تمنا کے مطابق حضرت سیدہ کو بڑھتے دیکھ رہا تھا۔حضرت میر صاحب نے اپنی بچی کے لئے ایک نظم لکھ کر دی جس کا ایک شعر مستقبل کی بنیاد ٹھہرا۔میرا نام ابا نے رکھا ہے مریم خدایا تو صدیقہ مجھ کو بنا دے حضرت اماں جان کی دیرینہ آرز تھی کہ میرے بھائی کے ہاں بیٹی ہوتو میں محمود ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) سے بیاہ دوں۔گزرتے ماہ وسال میں حضرت میر صاحب نے اپنی صاحبزادی کی روح وقف سے پوری طرح آشنا کر کے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی مثال بنا دیا۔۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے شادی کے بعد رفاقت کے بابرکت طویل عرصہ میں آپ نے وقف اور خدمت کا حق ادا کر دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کی رفاقت اور آپ کی بھر پور تربیت و توجہ سے حضرت سیدہ سونے سے کندن بن گئیں۔ایک طرف ظاہری لحاظ سے اعلیٰ تعلیم کامیابی سے حاصل کی اور دوسری طرف علمی و روحانی لحاظ سے انتہائی کارآمد وجود ثابت ہوئیں۔خصوصاً احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت میں آپ کی خدمات تاریخ نجنہ کا ایک سنہری باب ہے۔نصف صدی سے زائد عرصہ تک لجنہ اماءاللہ مرکز یہ میں خدمات اور صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی حیثیت میں انڈونیشیاء، سنگاپور، نائیجیریا، غانا، امریکہ اور یورپ کے کئی ملکوں کا دورہ کر کے عالمی سطح پر احمدی خواتین کی تربیت واصلاح کے کام میں نمایاں حصہ لیا۔حضرت سیدہ کی یاد گار خدمات میں سے تاریخ لجنہ کی تدوین اور پانچ جلدوں کی اشاعت ہے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے خطبات کا ایک مجموعہ الازھار لذوات الخمار یعنی اوڑھنی والیوں کے لئے پھول ہے۔