تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 670
حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ دو اور تین اپریل کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق صبح ۴ بج کر ۳ منٹ پر لندن کے ایک ہسپتال میں چھپن سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ نور اللہ مرقدها حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی پڑپوتی۔حضرت فضل عمر مصلح موعود کی بہو، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی نواسی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی زوجہ محترمہ تھیں اور لاریب خواتین مبارکہ کی ایک رکن۔ایسے نادر وجود کی جدائی قلب وجگر کو جھنجوڑ جاتی ہے لیکن بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر کی مرہم دل کے زخموں کو بھر دیتی ہے۔منصب خلافت پر متمکن ہونے سے پہلے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع مجلس انصار اللہ مرکز یہ کے صدر تھے۔ان دنوں حضرت سیدہ موصوفہ نے اپنی نگرانی میں گیسٹ ہاؤس انصار اللہ میں مہمانان کرام کے لئے بستر بنوائے۔بیرونی ممالک میں دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ اُمسیح الرابع کے سفروں میں ہمرکاب رہیں اور حضور انور کے آرام و آسائش کے علاوہ طبقہ نسواں کی تربیت اور دلجوئی کا فریضہ باحسن طریق سرانجام دیا۔آخری آٹھ سال جو مرکز اور اپنے عزیز واقارب سے دوری اور ہجرت میں گزرے اس کڑے وقت میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے آرام و آسائش کے سلسلہ میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را ہم جملہ کارکنان انصار اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ حضرت سیدہ بیگم صاحبہ مرحومہ کی جملہ خدمات دینیہ کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے اپنی رضاء کی جنتوں میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات قرب عطا فرمائے۔آمین۔اے اللہ تو ایسا ہی کر۔اس جانکاہ صدمہ کے موقع پر ہم اپنے پیارے آقاسید نا حضرت خلیفتہ مسیح الرابع کی خدمت میں مغموم دلوں سے اٹھنے والے جذبات تعزیت پیش کرتے ہیں۔اور رب رحیم و کریم کے حضور دست بدعا ہیں کہ وہ مولا کریم حضور انور اور حضرت مسیح موعود کے تمام خاندان اور جملہ افراد جماعت کے دلوں پر سکینت نازل فرمائے اور حضور انور کی دینی مہمات میں کوئی کمی نہ آنے پائے اور ہر آن اس کی نصرت شامل حال رہے اور ایسے سامان مہیا فرمائے اور ایسے حالات پیدا فرمائے کہ عرش پر اللہ تعالیٰ راضی ہو اور زمین پر اس کے عاجز بندے یعنی افراد جماعت اس کی حمد میں رطب اللسان ہو جا ئیں۔(آمین ) ہم سب حضور انور کی صاحبزادیوں ، دامادوں، حضرت بیگم صاحبہ کی بہنوں اور بھائیوں، حضور انور کی ہمشیرگان اور خاندان حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جملہ افراد سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو