تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 631
۶۳۱ انتظام کیا جائے اور بڑی مجالس میں بک سٹال کو متحرک کرنے کا بھی انتظام کیا جائے۔حیات طیبہ کی اشاعت کے لیے مکرم شیخ عبدالماجد صاحب سے بات کی جائے۔وہ اسے شائع کردیں، مجلس ان سے کتب خرید کر اشاعت کا انتظام کر دے نیز نماز کے بارہ میں حضور انور کے خطبات کی فہرست بنائی جائے اور انکی اشاعت کا پروگرام ترتیب دیا جائے۔اور اس بارہ میں حضور سے منظوری بھی لی جائے۔اس کے بعد قیادت تربیت ، ایثار اور قیادت مال کی رپورٹیں پیش ہوئیں آخر میں کارکنان کے پراویڈنٹ فنڈ کا معاملہ طے کرنے کے لیے قائد صاحب مال کی صدارت میں ایک چار رکنی کمیٹی مقرر کی جس میں قائد عمومی کے علاوہ دو کارکنان کے نمائندے چوہدری محمد ابراہیم صاحب اور محد سلیم صاحب شامل کئے گئے۔یہ اجلاس دعا کے بعد پونے سات بجے اختتام پذیر ہوا۔اجلاس مورخہ یکم جنوری ۱۹۹۵ء مجلس عاملہ کا ایک ضروری اجلاس مورخہ یکم جنوری ۱۹۹۵ء بوقت ساڑھے چار بجے شام گیسٹ ہاؤس مجلس انصار اللہ میں زیر صدارت مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس منعقد ہوا۔مندرجہ ذیل اراکین نے شرکت فرمائی۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب، مکرم عبد الرشید غنی صاحب ، مکرم خالد محمود الحسن بھٹی صاحب، مکرم ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب، مکرم سید خالد احمد صاحب ، مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب، مکرم سید قاسم احمد شاہ صاحب ، مکرم منور شمیم خالد صاحب، مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب، مکرم رفیق احمد ثاقب صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب، مکرم سمیع اللہ زاہد صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب، مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم سمیع اللہ زاہد صاحب نے کی۔اس کے بعد عہدد ہرایا گیا۔عہد کے بعد گذشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جو متفقہ طور پر درست قرار دی گئی۔سب سے پہلے محترم صدر صاحب نے جملہ اراکین عاملہ کو نئے سال کی مبارکباد دی اور کہا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نیا سال اہل دنیا، جماعت، انصار اللہ کی تنظیم کے لیے ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنائے۔جہاں تک انصار اللہ کی تنظیم کا تعلق ہے، بعض باتوں کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔عام طور پر دوروں کے دوران جو باتیں مدنظر رکھنی چاہئیں ، وہ یہ ہیں کہ تنظیم ہر فرد کو مؤثر رنگ میں متحرک کرنے میں کامیاب ہو جائے اور تنظیم کا رابطہ اس طرح ہونا چاہیے کہ کوئی فردان کے تعلق اور اثر سے باہر نہ ہو۔ہمارے کاموں کی بنیا د خلفاء کے ارشادات پر ہے۔بالعموم حضور کی ہدایت خطبات میں آ جاتی ہیں۔کچھ تو براہ راست سن لیتے ہیں لیکن کچھ حصہ نہیں سن سکتا۔ان تک ہدایات کے پہنچانے کا انتظام ہونا چاہیئے۔