تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 617 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 617

۶۱۷ متفرق مگر اہم امور اجلاسات برائے انتخاب صدر و نا ئب صدر صف دوم دستور اساسی کے مطابق صدر مجلس اور نائب صدر صف دوم کے لئے نام مجالس تجویز کر کے مرکز میں بھجواتی ہیں جن پر مرکزی مجلس عاملہ غور کر کے اپنی سفارشات خلیفہ وقت کو بھجواتی ہے۔حضور کی منظوری کے بعد مجوزہ نام مجلس انتخاب میں پیش کر کے اراکین سے رائے لی جاتی ہے۔یہ انتخاب خلیفہ وقت کے مقرر کردہ نمائندہ کی صدارت میں ہوتا ہے جو اراکین کی رائے حضور انور کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔خلیفہ وقت کی منظوری کے بعد دونوں عہدیدار اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۹ ء تک کے انتخابات کی تفصیل پیش ہے۔جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ۳ نومبر ۱۹۸۹ء سے صدر مجلس انصاراللہ مرکز یہ کا دائرہ کا ر پاکستان تک محدود ہو گیا۔(۱) انتخاب برائے سال ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۴ء شوری منعقده ۳۱ اکتو بر ۱۹۸ وزیر صدارت مکرم محمود احمد صاحب شاہد بنگالی صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ منظوری از سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث صدر نائب صدر صف دوم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نوٹ : ۹ جون ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفہ اسح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع " مسند آرائے خلافت ہوئے۔۱۱ جون ۱۹۸۲ء کو حضور انور نے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کو صدر مجلس نامز دفرمایا۔۱۹۸۴ء میں ناسازگار ملکی حالات کی وجہ سے انتخاب کر وایا جا ناممکن ہ تھا لہذا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مزید ایک سال (۱۹۸۵ء) کے لئے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کو صدر اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کو نائب صدر صف دوم مقرر فرمایا۔اس ضمن میں مکرم نواب منصور احمد خان صاحب وکیل التبشیر کی طرف سے ۲۰ دسمبر ۱۹۸۴ ء مندرجہ ذیل خط موصول ہوا۔