تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 570
۵۷۰ ١٩٩٦ء یڈیشنل قیاد ت تر بیت لومیا کین سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۵ء میں فرمایا: اب تو ہماری مرادیں پانے کے دن آ رہے ہیں اور مرادوں والی راتیں آرہی ہیں۔دن بھی ترقی ہوگی اور رات بھی ترقی ہوگی اور ہوتی چلی جائے گی۔کوئی دنیا کی طاقت نہیں جو اس تقدیر کو اب بدل سکے۔وہ آثار ہم دیکھ رہے ہیں۔کس رفتار سے اللہ تعالیٰ ہمیں آگے بڑھا رہا ہے اور آگے بڑھاتا چلا جائے گا۔اب تو لاکھوں پر خوشی ہو رہی ہے۔میں وہ دن دیکھ رہا ہوں جب اس صدی سے پہلے کروڑوں کی تعداد میں ایک ایک سال میں احمدی ہوں گے۔اب فکر ہے تو سنبھالنے کا فکر ہے۔مجھے تو بس یہی ایک فکر لگارہتا ہے کہ ان آنے والے مہمانوں کو سنبھالیں کیسے۔کس طرح ان کی عزت افزائی بھی کریں اور ان کو اپنی ذمہ داریاں بھی سمجھا ئیں تا کہ بہ لہ یہ ہمارے ساتھ DEAD WEIGHT کے طور پر نہ چلیں بلکہ بوجھ اٹھانے والے ساتھی بن جائیں“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انعامات کے پھلوں کو سنبھالنے اور ان کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے مجلس انصاراللہ پاکستان میں یکم جنوری ۱۹۹۶ء سے ایڈیشنل قیادت برائے تربیت نو مبائعین کا اضافہ کیا گیا اور مکرم مولوی عبد السلام طاہر صاحب کو ایڈیشنل قائد تربیت نو مبائعین مقرر کیا گیا۔ان کے بعد یکم جنوری ۱۹۹۷ء سے مکرم چوہدری لطیف احمد تھمٹ صاحب ایڈیشنل قائد تر بیت نو مبائعین مقرر ہوئے۔سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خط محرره ۶ ستمبر ۱۹۹۷ء بنام محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ پاکستان میں تحریر فرمایا کہ:۔نے فرمایا: نو مبائعین کی تربیت کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اور ایسے پروگرام بنا ئیں جو سارا سال جاری رہیں۔تربیت کی ذمہ داری انصار اللہ پر خصوصیت سے قائم ہوتی ہے۔ان کی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ یہ آگے داعی الی اللہ بن جائیں اور تبلیغی پروگراموں میں آپ کے ساتھ شامل ہوں“۔ایک اور خط مره ۲۰ستمبر ۱۹، بنام ناظر علی صاحب میں سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالی نا دعوت الی اللہ کے ساتھ ساتھ ہاضمہ ABSORPTION کا ایک نظام بنانا ضروری ہے۔اس کیلئے داعیان الی اللہ میں سے اچھے اچھے ورکرز اور با صلاحیت لوگوں کو اس کام پر لگا