تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 560 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 560

ایک پلاٹ کی موزونیت کا فیصلہ ہوا۔متعلقہ زمین کے حصول کے لئے متعلقہ حکام کو درخواست دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ کی کہ اس زمین کی قیمت ساڑھے سات لاکھ روپے مقرر کی جائے۔اس زمین کا معاملہ چل رہا تھا که مکرم سردار بخش صاحب انچارج کے ذریعہ موجودہ زمین کے بارہ میں معلومات حاصل ہوئیں۔مکرم و محترم صدر صاحب نے مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب قائد عمومی کوٹھی جانے کی ہدایت کی اور زمین کی خریداری کے سلسلہ میں ضروری اور اہم ہدایات بھی دیں۔اس پر مکرم چوہدری نور احمد صاحب، مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب، مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب قائد عمومی، مکرم جاوید احمد بسمل صاحب اور مکرم غلام حسین صاحب کا رکن دفتر مجلس انصار اللہ نے موقع پر جا کر جائزہ لیا اور زمین کی خرید کی سفارش کی۔مجلس انصار اللہ کی منظوری کے بعد مکرم چوہدری نوراحمد صاحب نے خرید کی کارروائی مکمل کروائی۔مجلس کی ابتدائی سوچ صرف چار پانچ ایکڑ کا ٹکڑا خرید نے کی تھی لیکن محض خدا کے فضل سے مٹھی شہر کے بالکل قریب اکیس ایکڑ زمین برلب سڑک معجزانہ طور پر مل گئی۔اس کی قیمت بھی نہایت معقول تھی یعنی صرف ایک لاکھ نہیں ہزار روپے۔اوپر اٹھنے والے اخراجات ملالئے جائیں تو یہ قطعہ زمین ایک لاکھ پچپن ہزار سات سو چونسٹھ روپے میں پڑا۔اس زمین کے بارہ میں اطلاع دیتے ہوئے حضور کی خدمت میں لکھا گیا کہ مٹھی ہسپتال کے لئے زمین کے حصول کی مشکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے حل ہو گئی ہے۔اس پر حضور کا ارشا دموصول ہوا۔جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔بہت نیکی کا کام ہے۔اللہ مبارک کرے۔66 اور سارے مراحل آسان فرما دے۔“ زمین کے حصول کا کام ایک لمبے عرصہ پر پھیلا ہوا ہے جس میں وقتا فوقتا مندرجہ ذیل احباب مجلس کی مدد کر تے رہے۔مکرم چوہدری نور احمد صاحب امیر ضلع تھر پارکر مکرم چوہدری محمود احمد صاحب نوکوٹ ، مکرم مبارک احمد صاحب معلم وقف جدید، مکرم ،سردار بخش صاحب، مکرم جاوید احمد صاحب بسمل مینیجر محد آبا دفارم ، مکرم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب، مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب، مکرم عبدالقدیر فیاض صاحب نائب ناظم ارشاد وقف جدید، مکرم غلام حسین صاحب کا رکن دفتر انصاراللہ۔نقشہ کی تیاری جنوری ۱۹۸۷ء میں ایک نقشہ تجویز کر کے مکرم ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب اور مکرم ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب سے رائے لی گئی۔۱۱ مارچ ۱۹۸۷ ء اور ۱۹مئی ۷ ۱۹۸ء کے اجلاسات مرکزی عاملہ میں مجوزہ نقشہ پیش کیا گیا اور اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے ممبران میں مکرم مرزا غلام احمد صاحب، مکرم عبدالرشید غنی صاحب، مکرم ڈاکٹر عمر الدین سدھو صاحب شامل تھے۔۲۷ ستمبر ۱۹۸۷ء کے اجلاس عاملہ میں بھی مجوزہ نقشہ پر اراکین نے مفید مشورے دیئے۔