تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 370
بارے میں جائزہ لے کر مناسب ہدایات دیں۔حاضری چودہ تھی۔تاریخ : ۱۴ فروری ۱۹۹۰ء مقام: مانگٹ اونچہ مرکزی نمائندگان : مکرم شمیم احمد صاحب خالد مکرم مولا نا نصر اللہ خان ناصر صاحب مختصر رپورٹ : اجلاس عام : نماز مغرب کے بعد اجلاس عام ہوا جس میں پانچ غیر از جماعت احباب بھی شامل تھے۔اس اجلاس میں مکرم شمیم احمد صاحب خالد نے دعوت الی اللہ کے بارے میں تقریر کی بعد ازاں مولانا نصر اللہ خاں صاحب ناصر نے ظہور امام مہدی کے موضوع پر فاضلانہ تقریر کی۔حاضری سو تھی۔اجلاس مجلس عاملہ : نما ز عشاء کے بعد اجلاس مجلس عاملہ ہوا۔دعوت الی اللہ اور عمومی شعبہ کا جائزہ لیا۔گیارہ پھلوں اور چونتیس زیارت ربوہ کے وعدے ہوئے۔حاضری دس تھی۔تاریخ: ۱۹ فروری ۱۹۹۰ء مقام : چک نمبر ۴۰ جنوبی سرگودها مرکزی نمائندگان : مکرم ملک منور احمد صاحب ، مکرم حافظ حمد ابراہیم صاحب ، کرم غلام حسین صاحب مختصر رپورٹ : نماز مغرب اور عشاء کے بعد مکرم حافظ محمد ابراہیم صاحب نے نماز سادہ دہرائی اور نماز کا ترجمہ سنا یا بعد ازاں مکرم ملک منور احمد صاحب جاوید نے حسب ذیل امور پر بات کی۔۱ - چھ ماہ سے جمعہ کا انتظام نہیں حالانکہ بیت الذکر موجود ہے اس طرف توجہ دلائی گئی اور با ہمی مشورہ سے تین جمعہ کے لئے مکرم محمد ابراہیم صاحب کو ربوہ سے بھجوانے کا فیصلہ ہوا۔نیز خطبہ جمعہ اور نماز کے بعد ہر مرتبہ نماز سادہ دہرانے کا عملی پروگرام کریں گے۔-r - بيت الذکر کی صفائی کی طرف توجہ دلائی گئی۔۳۔بچوں نے اشعار سنائے۔مکرم قائد صاحب خدام الاحمدیہ سے وعدہ لیا گیا کہ وہ ان بچوں کو لے کر مجلس مشاورت سے پہلے ایک مرتبہ ربوہ چکر لگائیں گے۔حاضر دو انصار اور چار خدام سے وعدہ لیا گیا کہ وہ اپنے اپنے ایک، ایک اور دو، دو غیر از جماعت دوستوں کو لے کر ربوہ آنے کا سلسلہ شروع کریں گے۔۵- تحریک جدید کا ٹارگٹ پورا کر کے جلد مرکز بھجوانے کا وعدہ لیا گیا۔حاضری چودہ تھی۔تاریخ : ۲۰ فروری ۱۹۹۰ء مقام: چک منگلا ضلع سرگودھا مرکزی نمائندگان : مکرم محمد اسلم صاحب شاد قائد عمومی، مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر، مکرم شمیم احمد خالد صاحب مختصر رپورٹ : اجلاس عام : نماز عشاء کے بعد مکرم محمد اسلم منگلا صاحب کی صدارت میں اجلاس عام شروع ہوا جس میں مکرم شمیم احمد خالد صاحب نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر تقریر کی اور وعدے لئے۔احباب نے چودہ پھلوں اور چھپیں زائرین ربوہ کا وعدہ کیا۔مکرم محمد اعظم صاحب اکسیر نے یوم مصلح موعود کی مناسبت سے ایک ایمان افروز تقریر کی۔اس کے بعد مکرم محمد اسلم صاحب شاد نے صدارتی تقریر کی۔حاضری ایک سو چالیس تھی۔