تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 237
۲۳۷ اجلاس ناظمین اضلاع وزعماء اعلیٰ صدر مجلس نے پاکستان بھر کے ناظمین اضلاع اور زعماء اعلیٰ کا اجلاس ۲۵ اور ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء کو بلایا۔۲۵ فروری نو بجے شب پہلا اجلاس ہال انصار اللہ مرکز یہ میں شروع ہوا۔صدر مجلس نے حاضرین اجلاس سے عمومی رنگ میں مجلس کے پروگرام کے بارہ میں بات چیت کی اور حاضرین نے اپنی مشکلات و مسائل بیان کئے۔ان کے سوالات کے جوابات دیئے گئے اور مشکلات کا حل بتایا گیا۔۱- زعماء اعلیٰ نے تجویز پیش کی کہ مرکز ویڈیو کیسٹ اور سوال و جواب کے آڈیو کیسٹ مہیا کرے۔۲ - امتحانات کے بارے میں مختلف تجاویز اور مشکلات پیش کی گئیں۔امتحانات کی تعداد پر بھی بحث ہوئی۔صدر صاحب نے فیصلہ کیا کہ سال میں صرف دو امتحانات ہوں گے۔پہلا امتحان ماہ مئی میں ہو گا۔اس میں کتاب فتح اسلام کا اضافہ ہو گا۔دوسرا امتحان ماہ ستمبر میں ہو گا اس میں کتاب نشان آسمانی کا اضافہ ہو گا۔دیگر کتب حضرت مسیح موعود کا مطالعہ جاری رکھا جائے گا۔۳۔سیرت النبی کے اجلاس کثرت سے کئے جائیں۔اجلاس میں تقاریر کا معیار مثالی ہو۔زیادہ سے زیادہ غیر از جماعت دوستوں کو شریک کیا جائے۔ماہ مارچ میں ایک اعلیٰ معیار کا جلسہ منعقد کیا جائے۔فیصلہ کیا گیا کہ ا ہر مجلس ہر ماہ سیرت کا ایک جلسہ کرے۔ب ضلع کے ماتحت سال میں چارا جلاس ہوں۔۲۶ فروری صبح نو بجے تلاوت کے بعد اجلاس شروع ہوا۔خطاب صدر محترم مجلس مرکز یہ آپ نے اپنے مختصر خطاب میں فرمایا۔اگر ہم یہ شعور پیدا کریں گے ہم کہاں کھڑے ہیں تو ہم آج کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔جماعت کے قیام کو ایک صدی پوری ہو چکی ہے۔آئندہ جب ہم اکٹھے ہوں گے تو انشاء اللہ نئی صدی ہوگی۔جسے ہم نے بڑے اہتمام سے منانا ہے۔ہما را مقام بہت بلند ہونا چاہیے۔لوگ فوج در فوج جماعت میں داخل ہوں گے۔ہم نے ان کی تربیت کرنا ہے۔نئے آنے والے سوال کریں گے کہ ہم نے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔ہم نے ان کا معلم بننا ہے۔لہذا ہمیں اپنے علم اور تجربہ کے لحاظ سے ایسا مقام پیدا کرنا ہے تا کہ ہم آنے والوں کے لئے اچھے استاد اور مربی ثابت ہوسکیں۔اس کے بعد قائدین نے اپنے اپنے شعبوں کے بارے میں ہدایات دیں اور جائزے پیش کئے۔شعبہ تحریک جدید، اصلاح وارشاد، مال، عمومی اور تربیت نے اپنے شعبہ جات کے جائزہ کی فوٹو کا پیاں تقسیم کیں تا کہ عہد یدا را حباب کو توجہ دلائیں اور تا مجاہدین کی اولادیں ان کی قربانیوں کو زندہ رکھ سکیں۔ان ہدایات کے سلسلہ میں صدر محترم ضروری ہدایات فرماتے رہے بالخصوص شعبہ عمومی کے سلسلہ میں