تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 104 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 104

۱۰۴ ہوتی ہے اور اس کے متعلق یہ یقین ہے کہ خدا نے اُس کو قبول فرما لیا ہے چنانچہ اس کی خوشخبریاں بھی دیں اور بعد میں پھر جس رنگ میں پیار اور محبت کا سلوک فرمایا وہ بھی ایک دیکھنے والی چیز تھی۔وہ جماعت جس کا چہرہ تقریب سنگ بنیاد کے وقت اترا ہوا تھا۔رات کے وقت اُس کے چہرہ پر سے خوشیاں پھوٹی پڑتی تھی اور دلی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔کیونکہ اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کا ایک عظیم الشان موقع مہیا فرما دیا۔ایک احمدی دوست نے ایک کلب میں رات کے کھانے کی دعوت دی تھی جس میں انہوں نے اپنے آسٹریلین دوستوں کو بلایا ہوا تھا۔۔۔چنانچہ جب ہم مسجد کی جگہ سے وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سارے کے سارے مدعوئین پہنچ گئے تھے۔اور ان میں سے ایک بھی غیر حاضر نہیں تھا۔ایک طرف بائیکاٹ تھا مسجد کا مسلمانوں کی طرف سے اور دوسری طرف عیسائی آ رہے تھے اپنے آپ کو تبلیغ کروانے اسلام کی۔وہاں کھانے کے بعد جو مجلس لگی وہ اللہ کے فضل سے نہ صرف بہت دلچسپ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے دل حیرت انگیز طور پر اسلام کی طرف مائل ہورہے تھے اور وہ اس کا بے اختیا را ظہار کر رہے تھے۔ہماری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ دے اور دل ان کو جو نہ دے ہم کو زباں اور اگر ہمارے کہنے میں کچھ کمزوریاں رہ گئی ہیں تو ان کمزوریوں کو دور فرمائے۔اگر ان کے دلوں کے زنگ حائل ہیں تو ان کے دلوں کے زنگ دور فرمائے۔ہم نے تو یہ بات سنا کے چھوڑنی ہے اور پہنچا کے چھوڑنی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ہم وہ قوم نہیں ہیں جن کی سرشت میں ناکامی کا خمیر ہوتا ہے۔ہم صاحب عزم لوگوں کی اولاد ہیں اور صاحب عزم سرداروں کے غلام ہیں۔اس لئے عزم اور ہمت کی اس چٹان پر قائم ہیں جس کو دنیا کی کوئی طاقت تو ڑ نہیں سکتی۔چنانچہ یہ تو ایک نمونہ ہے ورنہ ہم تو دن رات اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے احسانات کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ دلوں میں پاک تبدیلیاں فرماتا رہا اپنوں کے دلوں میں بھی اور غیروں کے دلوں میں بھی۔وہ ایک عجیب پُر لطیف نظارہ تھا۔ان دنوں خدا کے فضلوں کو دیکھ کر جو لطف آتا تھا دنیا کا کوئی سیاح اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ چیز کیا ہے اور خدا کے لطفوں کی سیر کا کیا مزہ ہے۔باہر جانے والے براعظم آسٹریلیا کی پتہ نہیں کہاں کہاں کی سیریں کرتے ہیں۔ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کی سیر کی ہے اور خوب پیٹ بھر کر سیر کی ہے۔