تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 92 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 92

۹۲ میں محو ہونے کی حالت میں اپنے آپ کو بالکل فراموش کر دیتے اور اس قدر طویل عرصہ تک قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت اس عنوان کے تحت محترم مولانا محمد احمد صاحب جلیل نے ایمان افروز تقریر کی۔آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سینکڑوں خطرات و مصائب اور بیسیوں معر کے اور غزوات پیش آئے۔لیکن کبھی آپ کی پامردی اور ثبات قدم نے لغزش نہیں کھائی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ بدر میں جب زور کا رن پڑا تو ہم لوگوں نے آنحضور کی آڑ میں پناہ لی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جرأت ودلیری کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک رات مدینہ میں شور ہوا کہ دشمن آگئے۔صحابہ یہ پروگرام بنا رہے تھے کہ جا کر تحقیق کریں لیکن دیکھا کہ آنحضرت گھوڑے کی بر ہنہ پیٹھ پر سوار حالات کا جائزہ لے کر واپس تشریف لا رہے ہیں۔لوگوں کو تسلی دی کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں۔غزوہ حنین میں ہوازن قبیلہ کے بے پناء تیروں کی بوچھاڑ ہوئی تو مسلمانوں کی کثیر التعداد فوج کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان سے بھاگ نکلی۔لیکن آنحضور چند جاں شاروں کے ساتھ بدستور میدان میں کھڑے رہے۔اس وقت آپ کی زبان مبارک پر یہ شعر جاری تھا۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِب یعنی میں پیغمبر صادق ہوں اور فرزند عبد المطلب ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی اصول کی فلاسفی میں فرماتے ہیں : دو حقیقی شجاعت جو محل و موقع کے ساتھ خاص ہے اور جو اخلاق فاضلہ میں سے ایک خُلق ہے۔وہ ان محل اور موقع کے امور کا نام ہے جن کا ذکر خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں اس طرح آیا ہے۔وَالصُّبِرِينَ فِي فِي الْبَأْسَاء وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ (البقرہ ۱۷۸) یعنی بہادر وہ ہیں کہ جب لڑائی کا موقع آ پڑے یا ان پر کوئی مصیبت پڑے تو بھاگتے نہیں۔ان کا صبر لڑائی کی سختیوں کے وقت میں خدا کی رضامندی کے لئے ہوتا ہے اور اس کے چہرہ کے طالب ہوتے ہیں نہ کہ بہادری دکھلانے کے۔“ سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکرم بریگیڈیر (ریٹائرڈ) محمد وقیع الزمان صاحب نے سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر تقریر کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اصحاب کے واقعات اور بیانات پیش کئے جو آپ کی