تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 91 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 91

۹۱ سال کے لئے کوشش کریں کہ خریداری سات ہزار تک پہنچ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض تکمیل اشاعت اسلام ہے۔جماعت کے قیام پر قریباً سو سال کا عرصہ ہونے کو ہے۔اس کی تیاری کے لئے حضور کی طرف سے جماعت کو بار بار اور بڑے زور سے توجہ دلائی جارہی ہے کہ ہر احمدی داعی الی اللہ بن جائے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ انصار اس اہم تربیتی کام کی طرف سب سے زیادہ توجہ دیں گے اور اس سلسلہ میں عمومی کوشش کی حد تک نہیں رہیں گے بلکہ خصوصی کوشش بھی کریں گے۔عمومی کوشش اپنی جگہ مفید ہیں۔لیکن تفصیلی کوششیں کام میں وسعت اور گہرائی پیدا کرتی ہیں۔پس انصار اللہ کے ہر رکن تک پہنچا جائے ، کام کی اہمیت اس و ذہن نشین کرائی جائے اور اسے حقیقی اور سچا داعی الی الہ بنا کر دم لیں۔‘“ تقاریر و درس علماء سلسله وخطاب نمائندہ امریکہ سالانہ اجتماع کے موقع پر علمائے سلسلہ نے مختلف علمی اور تربیتی موضوعات پر خطابات فرمائے درس دیئے۔ان میں سے بعض کا مشخص پیش کیا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شغف عبادات اس موضوع پر محترم پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب نے اپنے خطاب میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول وحی سے قبل سب سے بڑھ کر محبوب مشعلہ یہی تھا کہ خلوت میں اپنے رب کی عبادت کریں۔آپ مکہ سے کئی میل دور غار حراء میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔چند دن رات کا کھانا ساتھ لے جاتے اور زاد ختم ہونے پر گھر سے چند دن کا مزید کھانا لے جاتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے اور اپنی قوم کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے۔آپ کی اس حالت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں کھینچا ہے وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَی اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنی محبت کے نشے میں چُھور پایا تب اس نے تجھے اپنی طرف آنے کی راہ دکھلا دی۔زمانہ نبوت کے دوران آپ کی عبادات اور ان میں آپ کے گہرے شغف کا بیان سورۃ المزمل میں بھی آتا ہے۔اگر چہ یہاں کلام امر کے صیغہ میں ہے مگر در حقیقت حکم دینے والے خدا نے اپنے ان احکام میں آپ کی فطری آواز اور لگن کا نقشہ ہی کھینچا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے خدا تعالیٰ کی عشق و محبت کی چادر میں لیٹے ہوئے شخص راتوں کو اٹھ اٹھ کر عبادت کیا کر۔جس سے ہماری مراد یہ ہے کہ رات کا اکثر عبادت میں گزار ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت الہی میں شغف دیکھ کر کفار کو یہ کہنا پڑا کہ عَشَقَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ - یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔آپ سبعض دفعہ رات کے نوافل میں اپنے مولیٰ کے عشق