تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1056
۱۰۵۶ تھے۔جبکہ لقمان صاحب پہلے ناظم اعلیٰ تھے۔سوری نام اکتوبر ۱۹۷۸ء میں پہلی بار سوری نام میں PARAMARIBO کے مقام پر مجلس انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا۔پہلے نائب صدر مکرم مولانا محمد صدیق صاحب منگلی اور ان کے بعد مکرم مولوی محمد اشرف الحق صاحب مربی سلسلہ تھے۔پہلے زعیم اعلیٰ مکرم حسینی بید اللہ صاحب تھے۔ان کے بعد مکرم مرتضی چراغ علی صاحب اور جولائی ۱۹۸۶ء میں مکرم محمود عبدالمطلب صاحب زعیم اعلیٰ بنے۔بیعتیں کرانے میں انصار نے سرگرم حصہ لیا۔جاپان ۲۴ نومبر ۱۹۸۴ء کوٹو کیو میں پہلی مجلس انصار اللہ قائم ہوئی۔مکرم سید الطاف احمد صاحب مجلس ٹوکیو کے پہلے زعیم مقرر ہوئے۔۲۶ فروری ۱۹۸۹ء کو پہلے ناظم اعلی ملک مکرم ملک منیر احمد صاحب مقرر ہوئے۔دو مجالس ٹوکیو اور نا گویا کے زعیم علی الترتیب مکرم سید الطاف احمد صاحب اور مکرم محمد جمال صاحب مقرر ہوئے۔پہلے نائب صدر مجلس انصار اللہ جاپان مکرم مغفور احمد صاحب منیب مبلغ انچارج تھے۔برما ۲۷ جنوری ۱۹۸۶ء کو نیشنل پریذیڈنٹ مکرم ولی ظفر اللہ صاحب نے عہدیداران انصار اللہ کے انتخاب کی اطلاع دی۔انتخاب میں تمہیں انصار نے حصہ لیا۔صدر محترم نے اجتماع انصار اللہ برما منعقدہ ۱۹ جنوری ۱۹۸۶ء میں منتخب ہونے والے رنگون کے زعیم اعلیٰ مکرم ایس۔ایم۔ابراہیم صاحب کی منظوری عطا فرمائی۔مکرم حاجی سلطان احمد صاحب اور مکرم ناصر احمد صاحب مجلس عاملہ کے ممبران منظور کئے گئے۔۱۹۸۷ء میں U۔TIN MAUNG صاحب زعیم اعلیٰ مقرر ہوئے۔مجلسی کارکردگی کی رپورٹیں مرکز کو بھجوائی جاتی رہیں۔۱۹۸۷ء، ۱۹۸۸ء، ۱۹۸۹ء کے بجٹ بھی تشخیص ہوئے۔اپریل ۱۹۸۹ء میں قلمی دوستی کے لئے چار نام بھجوائے گئے۔اگست ۱۹۸۸ء میں ملکی حالات کی وجہ سے نئی فوجی حکومت نے مذہبی سرگرمیاں معطل کر دیں۔جس کی بناء پر مجلس کے لئے کام کرنا ممکن نہ رہا۔號 ۳ نومبر ۱۹۸۵ء کو مجلس انصاراللہ سنگا پور قائم ہوئی۔پورے ملک پر مشتمل صرف ایک ہی مجلس تھی۔پہلے نائب صدر مکرم ایم۔ایچ۔سالکین صاحب اور پہلے ناظم اعلیٰ مکرم حاجی حمزہ بن محمد سعید صاحب مقرر