تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1017 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1017

1+12 پروگرام پر پوری طرح عملدارآمد کرتی رہی۔یہ امر یا در کھنے کے لائق ہے کہ یہاں احمدیت حضرت مولانا رحمت علی صاحب کے زمانہ ۱۹۳۰ء میں نفوذ کر چکی تھی۔۱۹۸۲ء میں مسجد سیرن ساری (Siransari) میں منتقل کر دی گئی۔یہاں مقیم انصار کو بوگور (Bogaor) مجلس کے ساتھ شامل رکھا گیا۔۱۹۸۵ء میں یہاں با قاعدہ جماعت قائم ہونے پر زعامت انصار اللہ کا بھی قیام کر دیا گیا۔6 مجلس او جونگ پاڈ نگ(UJUNG PANDANG): مجلس ۱۹ دسمبر ۱۹۸۲ء کو کھولی گئی۔آغاز سے ستمبر ۱۹۸۷ء تک مکرم حاجی حمزہ ڈائنگ ساؤ صاحب (H۔Hamjah Daeng) زعامت کے عہدہ پر فائز رہے۔مجلس عمومی طور پر جماعتی کارکردگی میں فعال حصہ لیتی رہی۔7 مجلس بنڈونگ (BANDUNG): مجلس ہذا کا قیام ۱۹۶۷ء میں ہوا تھا۔۲۔۱۹۸۰ء میں مکرم حاجی اوسوابی صاحب (HOSUWAMBI) ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۸ء تک رہے۔مکرم و ریتمو صاحب (WORY ATMO) زعیم مجلس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔اس عرصہ کے دوران جو نمایاں افعال سرانجام دیئے گئے۔ان کی ایک مختصر فہرست یہ ہے۔تربیتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں شرکت ، خدمت انسانیت ، وقار عمل، علاوه از میں عطیہ خون ، عطیہ چشم ، قدرتی آفات کے موقع پر خدمت ورزشی مقابلے اور مرکزی دفتر جماعت احمدیہ انڈونیشیاء کی طرف سے شائع شدہ ہفتہ وار جماعتی خبر نامه امہ (SURAT EDARAN KHUSUS) کا ہفتہ وار قسیم۔سالانہ اجتماعات سالانہ اجتماعات کا سلسلہ ۱۹۸۱ء سے شروع ہوا۔پہلا سالانہ اجتماع مورخه ۸،۷ نومبر ۱۹۸۱۔۱۹۸۱ء کو مانسلور کونینگان (MANISLORE KUNINGAN) مغربی جاوا میں مجلس انصار اللہ انڈونیشیا کا پہلا سالانہ اجتماع نہایت کامیابی سے منعقد ہوا۔اس اجتماع میں انڈونیشیا کے مختلف علاقوں سے ایک سوا کا نوے انصار بطور نمائندہ تشریف لائے۔(۵۲) دوسرا سالانہ اجتماع دوسرا سالانہ اجتماع ۱۷ - ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو احمد یہ بال مانس اور ضلع کو نینگن مغربی جاوا میں منعقد ہوا جس میں انڈونیشیا کے کونے کونے سے تشریف لانے والے اڑھائی صد نمائندگان حاضر تھے۔پہلا اجلاس : مکرم عبدالمنان صاحب ناظم اعلیٰ انصار اللہ انڈونیشیا کی زیر صدارت قرآن مجید کی تلاوت سے