تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 997 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 997

۹۹۷ منصور احمد صاحب عمر نے درس قرآن کریم دیا۔ناشتہ کے بعد ورزشی مقابلے ہوئے۔اجتماع کا اختتامی اجلاس بعد دو پہر شروع ہوا۔مکرم بشارت احمد محمود صاحب نے ”برکات خلافت“ کے موضوع پر تقریر کی۔اس کے علاوہ مکرم لئیق احمد صاحب منیر مربی ہیمبرگ اور مکرم عبد الباسط صاحب طارق نے بصیرت افروز تقاریر کیں۔مہمانِ خصوصی مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔معاشرے کی جملہ برائیوں سے بچنے کی لیے ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنایا جائے اور مغربی اقوام کو اسی رنگ میں رنگا جائے۔اجتماع کا اختتامی خطاب مکرم نائب صدر صاحب مجلس انصاراللہ جرمنی کا تھا۔آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہمیں باہم پیار و محبت کی ایسی فضاء قائم کرنی چاہیے کہ وہ دنیا پر اثر انداز ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اجتماعات کے انعقاد کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے۔اگر یہ نہیں تو پھر اجتماعات منعقد کرنے کا کیا فائدہ ہوا۔مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے اختتامی دعا کروائی اور اجلاس برخواست ہوا۔(۳۵) ساتواں سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ جرمنی کا ساتواں سالانہ اجتماع ۱۲ ،۳ استمبر ۱۹۸۷ ء کو ناصر باغ۔گراس گیرا ؤ منعقد ہوا۔پہلا اجلاس زیر صدارت مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر اصلاح وارشاد مرکز یہ گیارہ بجے شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم ، عہد انصار اللہ اور نظم کے بعد مکرم مولانا صاحب موصوف نے اپنے خطاب میں انصار اللہ کے قیام کا مقصد اور انصار کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس کے بعد مکرم عبدالغفور صاحب بھٹی ناظم اعلی انصار اللہ جرمنی نے محترم صدر صاحب مجلس مرکز یہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔بعد ہ ہیمبرگ، میونخ اور فرینکفرٹ کے زعمائے انصار اللہ نے اپنی اپنی مساعی کی رپورٹیں پیش کیں۔اس کے بعد مکرم ناظم صاحب اعلیٰ نے فرمایا کہ انسان اپنے نفس پر تب ہی کنٹرول پاسکتا ہے جب وہ ان باتوں پر سختی سے عمل کرے یعنی توحید باری تعالیٰ پر کامل یقین ، تسبیح وتحمید، والدین کی اطاعت ،صحبت صالحین، نماز با جماعت، امر بالمعروف و نهی عن المنکر صبر واستقامت، دیانت وامانت، فروتنی اور میانہ روی کو اپنا شعار بنائے۔کھانے کے بعد مندرجہ ذیل ورزشی مقابلے ہوئے۔دوڑ سو میٹر۔دوڑ چارسو میٹر ، گولہ پھینکنا ، پرچه کلائی پکڑنا ، رسہ کشی اور فٹ بال۔نماز عصر کے بعد مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔دوسرے روز کی کارروائی کا آغاز نماز تہجد اور نماز فجر کی ادائیگی سے ہوا۔درس قرآن کریم کے بعد پر معلومات ہوا۔اس کے بعد انصار کے لئے سیر کا پروگرام تھا۔ناشتہ کے بعد ساڑھے نو بجے کے قریب دوسرے دن کی کارروائی شروع ہوئی۔تلاوت قرآن مجید ، نظم اور لطائف کے مقابلے ہوئے۔علمی مقابلوں کے بعد مکرم مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم مشنری انچارج جرمنی نے خطاب فرمایا۔آپ نے سورۃ العصر کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھاتا ہے۔انسان کبھی وقت کو واپس نہیں لاسکتا۔اللہ تعالیٰ نے وقت کی