تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 996
۹۹۶ ہوا۔اس اجتماع کا افتتاح مکرم بشارت احمد محمود صاحب مربی سلسلہ کولن نے اپنی تقریر اور اجتماعی دعا کے ساتھ کیا۔اس اجتماع میں خدا کے فضل سے بائیس انصار نے شرکت کی جو جرمنی کے مختلف شہروں سے طویل مسافت طے کر کے آئے تھے۔ان کے علاوہ تمیں خدام اور پندرہ اطفال بھی شامل ہوئے۔اجتماع کے دوران تلاوت ، نظم، تقریر، عام دینی معلومات، پیغام رسانی اور مشاہدہ معائنہ کے مقابلے ہوئے۔اسی طرح کھیلوں میں رنگ ، والی بال ، دوڑ اور کلائی پکڑنے کے دلچسپ مقابلے بھی ہوئے۔ایک مجلس سوال و جواب بھی ہوئی جو کہ بہت مفید رہی۔سوالوں کے جوابات مربیان سلسلہ نے دیے۔اجتماع میں درس قرآن کریم اور درس حدیث بھی ہوا۔مکرم عبد اللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت احمد یہ جرمنی نے اپنی تقریر میں انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور پھر انصار میں انعامات تقسیم فرمائے۔اختتامی تقر مریمکرم ملک منصور احمد صاحب عمر مشنری انچارج و نائب صدر مجلس انصار الله جرمنی نے کی جس میں انصار اللہ کو حضرت امام جماعت احمدیہ کا یہ ارشاد یاد دلایا کہ آپ میں سے ہر احمدی ایک جرنیل ہے اور اس نے طارق بن زیاد کی طرح دنیا کے ممالک کو دین کے لیے روحانی طور پر فتح کرنا ہے۔دعا کے ساتھ یہ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔چھٹا سالانہ اجتماع ۴،۱۳ استمبر ۱۹۸۶ء کو مجلس انصاراللہ جرمنی کا چھٹا سالانہ اجتماع میونخ کے نئے مشن ہاؤس میں منعقد ہوا۔۱۳ ستمبر کو اجتماع کا آغاز زیر صدارت مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نائب صدر خدام الاحمدیہ مرکز یہ تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔انصار اللہ کا عہد دہرایا گیا۔افتتاحی اجلاس میں مکرم عبدالغفور صاحب بھٹی ناظم اعلیٰ انصار اللہ جرمنی نے انصار اللہ کی ذمہ داریاں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد تلاوت نظم ، تقریر اور دینی معلومات کے مقابلے ہوئے۔پہلے روز کا آخری پروگرام بعد طعام و ادا ئیگی نماز مغرب وعشاء شروع ہوا۔درس حدیث مکرم عبد الباسط طارق صاحب مربی سلسلہ نے دیا۔بعد میں مجلس شوریٰ منعقد ہوئی۔مجلس شوری میں انصار اللہ کو فعال بنانے اور دعوت الی اللہ کے پروگرام کو موثر بنانے کے لیے غور و فکر کیا گیا۔اس موقعہ پر مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر نا ئب صدر انصار الله جرمنی و مشنری انچارج نے شوری کے متعلق ہدایات دیں، بعض کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی اور انصار کو اپنی ذمہ داریاں صحیح رنگ میں نبھانے کی تلقین کی۔مکرم بشارت احمد صاحب محمود مربی سلسلہ کولن نے انتظامیہ کے بارے میں اظہار خیال کیا۔مکرم عبدالباسط طارق صاحب مربی سلسله میونخ نے جرمنوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں تقریر کی۔علاوہ ازیں مکرم ناز احمد صاحب ناصر اور مکرم مبشر احمد صاحب باجوہ نے بھی مشوروں میں حصہ لیا اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔دوسرے روز نماز تہجد و نماز فجر مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے پڑھائی جس کے بعد مکرم ملک