تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 981 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 981

۹۸۱ کی بھی یہی رائے تھی۔انہوں نے جرمن کی تاریخ اور تہذیب کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی تھی کہ یہ لوگ بہت اہم ہیں یعنی یورپ میں اسلام قائم کرنے کے لحاظ سے اہم کردارادا کریں گے۔مگر یہ انسانی سوچ ہے غلط بھی ہو سکتی ہے۔اہل برطانیہ کو دعاؤں میں یادر کھنے کی حکمت ایک اور زاویے سے نظر ڈالنے سے اندازہ مختلف بھی ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے تمام جماعت کو اہل برطانیہ کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی نصیحت فرمائی ہے کیونکہ انہوں نے ہندوستان میں جس طرح مذہبی انصاف اور غیر جانبداری کا برتاؤ کیا ہے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گہرا اثر چھوڑا۔بعض ایسے کیسوں میں جہاں عیسائی اسلام کے مخالف تھے، حکومتِ برطانیہ نے کبھی انصاف کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا اور حضرت مسیح موعود نے ان کی اس خوبی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے دعا فرمائی۔اگر چہ اس وجہ سے آپ پر اتہام لگائے گئے۔آپ کو برٹش ایجنٹ کا لقب دیا گیا۔لیکن آپ تو مردحق تھے اور کوئی چیز آپ کو حق گوئی اور حق کی حمایت سے باز نہیں رکھ سکتی تھی۔جو آپ نے دیکھا بلا جھجک کہا۔پس مذہب میں انگریزوں نے انصاف کا برتاؤ کیا۔اور دوسری بات انگلینڈ میں سفید پرندے پکڑنا تو سفید سے سفید رنگت کے لوگ نہیں۔بلکہ باخدا اور پاک صفات کے لوگ ہیں۔یعنی انگلینڈ میں پاک صفات والے خدا ترس لوگ پائے جاتے ہیں۔ان کے لئے دعائیں کرنا ان کا حق ہے اور ویسے بھی احمدیت میں تعداد کے لحاظ سے اول نمبر پر برطانیہ ہے۔دوم جرمنی ہے۔اس سال کی برطانیہ میں کل پنتالیس بیعتوں میں سے صرف پانچ بیعتیں انگریزوں کی ہیں۔یہ کچھ بھی نہیں۔اگر ہم اس اصول پر عمل کریں کہ ہر احمدی ہر سال میں ایک احمدی بنائے گا تو موجودہ پانچ سو پچاس کی تعداد کے لحاظ سے ایک سال کے بعد آپ کی تعداد گیارہ سو ہو جائے گی۔دو سال بعد بائیس سو، تین سال بعد چار ہزار چار سو اور چار سال بعد آٹھ ہزار آٹھ سو۔میں چار سال قبل برطانیہ میں آیا تھا اگر اُس وقت آپ نے میری نصیحت کو سنجیدگی سے لیا ہوتا اور اس پر عمل کیا ہوتا تو آج کے اجتماع میں آپ کی حاضری آٹھ ہزار آٹھ سو ہوتی۔اس کمرے میں تمام انصار سمانہ سکتے اور یہ جگہ جلسہ سالانہ کا منظر پیش کر رہی ہوتی۔اس سے ظاہر ہے کہ نصیحت پر سنجیدگی سے عمل نہ کرنے سے مقصد حاصل نہیں ہوا کرتا۔خدا تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہوتے جائیں آخر میں مجھے یہ زور دے کر کہنا ہے کہ ایک آدمی کے لئے سال میں ایک بیعت کرنا کچھ مشکل کام نہیں ہے۔آپ میں سے ہر ایک اس صلاحیت کا حامل ہے۔اس کام کے لئے