تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 980 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 980

۹۸۰ یورپ کے کسی بھی ملک میں ظاہر نہیں ہونی شروع ہوئی۔اس لحاظ سے ہمیں ابھی بہت آگے جانا ہے۔جب ہماری کوششیں اس مقام تک پہنچ جائیں کہ حقیقتاً مخالفت شروع ہو جائے۔تب وہاں سے ہمارا اصل منزل کا دشوار گزار راستہ شروع ہوتا ہے۔تب موت و حیات کی جنگ شروع ہوا کرتی ہے۔غلبہ پانے کی جنگ۔اور اس کام میں ایک صدی لگ جاتی ہے۔کبھی دو صدیاں بھی لگ جاتی ہیں۔عیسائیت کو تو تین صدیاں لگ چکی تھیں تب کہیں وہ کامیاب ہوئے تھے۔ہم نے ابھی لمباراستہ طے کرنا ہے۔احمدیت کو اب ایک صدی گزر چکی ہے۔اور ہم دوسری صدی میں داخل ہونے کو ہیں۔چنانچہ میرا پیغام یہ ہے کہ احمدیت کو سنجیدگی سے لیں۔یہاں ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کریں جو تمام ملک میں آئندہ پیغام پھیلانے کا مرکز ہوا ور دوسری صدی میں یہ پیغام تمام ملک میں پھیل جائے۔انگلینڈ، آئر لینڈ اور ویلز یعنی تمام جزیرہ ہائے برطانیہ میں۔برطانیہ کی دو جماعتوں کا ذکر جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ ابھی تو ہمارے کام کی ابتداء ہی ہوئی ہے۔اگر چہ چند ایک جگہیں ہیں۔جیسے ہارٹلے پول اور پین ویلی SPEN VALLEY کی میں مثال دیا کرتا ہوں کہ وہاں سے کام کا حلقہ کچھ وسیع ہوتا نظر آ رہا ہے اور وہاں مجھے امید کی کرن نظر آتی ہے۔لیکن برطانیہ کے دیگر شہروں میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔کبھی کبھار ادھر اُدھر سے کوئی ایک آدھ بیعت ہو جاتی ہے۔کبھی لنڈن میں کبھی کہیں اور جگہ۔لیکن یہ بیعتیں اس لئے قابل اطمینان نہیں کہ یہ گو یا حرکت پذیر انفرادی بیعتیں ہیں۔ان کی کہیں کوئی جڑ نہیں اور ان سے کہیں کوئی نئی احمدی جماعتوں کی بنیادیں پڑیں اور ان نئی جماعتوں میں یہاں کے مقامی لوگ شامل ہوں ، ایشیائی نہیں بلکہ اس ملک کے اصل باشندے۔اور جب یہ برطانوی باشندے تمام ملک میں پھیل کر کام کرنا شروع کریں گے تب ہما را اصل کام شروع ہوگا۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رویا میں دیکھا تھا کہ انگلستان میں کچھ سفید پرندے پکڑ رہے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ کے لوگ باقی دنیا یا کم از کم یورپ کی راہنمائی کے لئے گہری بنیادوں والے مراکز قائم کریں گے۔اگر چہ جب میں جرمن کے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں اور اسلام کے بارے میں ان کی سنجیدگی محسوس کرتا ہوں تو مجھے ذاتی طور پر یہ خیال آتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جرمن باقی تمام یورپ کی راہنمائی کرے اور اپنے افعال ہونے سے معاشرے میں وہ خوف اور خطرے کی کیفیت پیدا کر دے جس کے نتیجے میں مخالفت پیدا ہوا کرتی ہے جو دراصل کامیابی کا رد عمل ہوتی ہے۔یہ رائے میں نے ذاتی طور پر جرمن سے آنے والے لوگوں کو بنظر غور دیکھنے کے بعد قائم کی ہے۔اور میرے والد مصلح موعود حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب