تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 974 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 974

۹۷۴ ہے۔لیکن بعض اوقات قرآن کریم میں بعض چیزوں کا ذکر نہیں ملتا لیکن بائیل کے ذریعہ ہمیں وہ معلوم ہو جاتی ہیں۔بشرطیکہ قرآن کریم اس کی تردید نہ کر دے یا کسی دیگر طریقہ سے وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔ہم اُسے مان لیتے ہیں اور اس بات میں انکار کی کوئی وجہ نہیں کہ حضرت ابرا ہیم کا پہلا بیٹا ان کی نوے سال کی عمر میں ہوا۔انصار اللہ کی عمر ذمہ داری کی عمر ہے احمدیت کی تاریخ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ولادت ایسی عمر میں ہوئی جو انصار اللہ بننے کی عمر سے بھی بہت زیادہ ہے۔پس ایسے بہت سے امور ہیں جن میں انفرادی طور پر انسان اثر پذیر ہوتا ہے۔بعض لوگوں میں تنزل جلد شروع ہو جاتا ہے، بعض میں دیر سے۔اس سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ بعض لوگوں پر بڑھاپے کے آثار چالیس سال کی عمر میں ہی نمایاں ہونے لگتے ہیں بلکہ بعض تو تمیں سال کی عمر میں ہی اور بعض اپنی عمر کی دوسری دہائی کے دوران ہی عادات واطوار میں اور رویے میں عمر رسیدہ لگنے لگتے ہیں۔پس بہت سے ایسے تندرستی کے مشاغل ہیں جن میں انصار بخوبی حصہ لے سکتے ہیں۔اگر وہ اپنی عمر کے سامنے ہار نہ مانیں۔صحت کا خیال رکھیں اور ارادے مضبوط رہیں تو عمر کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوگا۔پس آپ نے یہ عزم صمیم کرنا ہے کہ آپ نے جوان رہنا ہے۔ابھی تو ہم نے بہت آگے جانا ہے۔ہمیں افرادی قوت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔انصاراللہ میں شمولیت سے آپ کے اندر مایوسی کی بجائے یہ احساس پیدا ہونا چاہئیے کہ اب ہم اس طبقہ میں آگئے ہیں جن کے ذمہ زیادہ ذمہ داری کے کام ہیں۔میں اس بات کو نہیں مان سکتا کہ چونکہ کوئی شخص چالیس سال کی عمر کا ہو گیا ہے اس لئے اب وہ بوڑھا ہو گیا ہے۔پہلے بتا چکا ہوں تمام انحصار اس بات پر ہے کہ خود انسان اپنے آپ کو کیا سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔چالیس سال کی عمر کے بعد حضرت مسیح موعود کے تصنیفی مشاغل حضرت مسیح موعود علیہ السلام با قاعدگی کے ساتھ سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور دن بھر نہایت چستی سے تمام امور کی سرانجام دہی فرماتے تھے۔باوجود اس امر کے کہ انہیں تحریری کام بہت زیادہ کرنا ہوتا تھا اور عقل حیران رہ جاتی ہے یہ سوچ کر کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ جو وقت حضرت مسیح موعود کو ملا اس مختصر مدت میں آپ نے اتنے ادبی کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے اس کے باوجود کہ ان کے پاس بے حد ذمہ داری اور مصروفیات کے کام تھے۔انہوں نے اتنے موضوعات پر اتنا زیادہ لکھا کہ آپ اسی سے زیادہ کتب کے مصنف ہیں اور یہ