تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 34
۳۴ مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔﴿۲۰﴾ اجلاس دوم دوسرا اجلاس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس کی صدارت میں نو بجے صبح شروع ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی۔حاضرین کی طرف سے بعض سوالات کئے گئے جن کے جوابات محترم صدر مجلس کے علاوہ مکرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ، مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد مؤتریخ احمدیت اور مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب قائد ایثار نے باری باری دیئے۔زیادہ تر سوالات مذہبی ،فقہی علمی اور معلوماتی امور سے متعلق تھے۔سیاست کے متعلق سوالات کی اجازت نہ تھی۔﴿۲۱﴾ صدر محترم کا صدارتی خطاب سوال و جواب کے دلچسپ پروگرام کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے خطاب فرمایا جس کا مکمل متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد صدر مجلس نے فرمایا۔اس اجلاس کا آخری اور اصل اور حقیقی خطاب کہ جو دراصل مرکزی نقطہ ہے اس سارے اجتماع کا ، وہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہو گا جو اس وقت سے قریباً چالیس منٹ بعد انشاء اللہ شروع ہوگا۔روایتاً صدر مجلس کو اس خطاب سے پہلے کچھ وقت دیا جاتا ہے کہ وہ انصار بھائیوں اور بزرگوں کی خدمت میں اپنے گزشتہ تجربے کو پیش نظر رکھ کر کچھ ایسی باتیں عرض کر سکے جس سے آئندہ سال پروگرام بہتر طور پر چل سکیں۔جس وقت قائدین مرکز یہ آپ سے خطاب فرما رہے تھے۔اپنی رپورٹیں پڑھ رہے تھے کچھ شعبوں کے متعلق۔تو اس وقت درمیان میں کچھ نہ کچھ عرض کر دیا تھا۔کچھ مرکزی شعبے یا بعض اصولی باتیں ایسی ہیں جن سے متعلق میں اب کچھ بیان کرتا ہوں۔تربیت کی کنجی کارکن کے دل اور نیت کی کیفیت سب سے پہلے تربیت کا معاملہ ہے۔آج کے خطاب کے لئے میں نے تربیت کی تفاصیل کو نہیں لیا بلکہ اپنے کارکنان بھائیوں سے میں اس اصل کو بیان کرنا چاہتا ہوں جو ساری تربیت کا راز ہے۔جس میں تربیت کی کنجی ہے، وہ کارکن کی اپنے دل اور اپنی نیت کی کیفیت ہے۔تربیت کی تفاصیل آپ نے سن لی ہیں اس اجتماع میں مختلف مواقع پر۔میں یہ عرض کروں گا کہ کس قسم کے کارکنان مجلس انصار اللہ کو چاہئیں اور تربیت کے دوران وہ کیا رویہ اختیار کریں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توقع ہو