تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 464
۴۶۴ اور اپنے قول سے بھی نماز با جماعت کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین اعمال میں سے قرار دیا ہے۔اس لئے میری گذارش ہے کہ جہاں جہاں آپ جماعتی سطح پر مرکز نماز قائم کرنے کا انتظام کرسکیں وہاں اپنے مرکز قائم کریں اور خود بھی ان مراکز میں جا کر نماز با جماعت ادا کریں اور ساتھ اپنے بچوں کو بھی نماز کے لئے لے جایا کریں تا کہ انہیں زندگی کے شروع سے نماز باجماعت پڑھنے کی عادت پڑے۔اسی طرح جہاں آپ مرکز نماز قائم نہ کر سکتے ہوں وہاں اپنے گھروں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ نماز با جماعت کا التزام کریں اور اپنے بچوں کو سمجھاتے رہیں کہ اصل حکم مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا ہے لیکن چونکہ یہاں کوئی مسجد یا مرکز نہیں ہے اس لئے ہم گھر میں اکٹھے ہو کر نماز باجماعت پڑھ لیتے ہیں۔دوسری بات جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ تعلیم القرآن ہے۔ہمارے مذہب کی بنیا د قرآن مجید پر ہی ہے۔قرآن مجید ہی وہ پیغام ہے جو ہمارے اللہ نے تمام دنیا کے انسانوں کی دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔اگر ہم اس پیغام سے ہی جس میں ہمارے لئے ہر بھلائی اور خوبی کو حاصل کرنے کے طریقے بیان ہیں ، غافل رہیں اور اسے نہ پڑھیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی کسی قسم کی بھلائی سے ہمکنار ہوسکیں۔قرآن کریم خود پڑھنا سیکھیں، اس کا ترجمہ سیکھیں تا کہ اپنے محبوب کے پیغام کو آپ خود سمجھیں اور اسی طرح کوششیں کریں کہ قرآنی علوم صرف اپنے تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اپنے بچوں کو اور نو جوانوں کو بھی تعلیم قرآنی کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوششیں کریں۔خود بھی روزانہ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں میں بھی روزانہ تلاوت قرآن کی عادت ڈالنے کی کوشش کریں اور ان کو بھی قرآن کریم کا ترجمہ پڑھائیں تا کہ وہ بھی ان روحانی خزائن سے فائدہ اٹھانے والے ہوں جن سے قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اپنی حفظ وامان میں رکھے۔اپنی اور اپنے رسول کی محبت سے نوازے اور قرآنی علوم سے متمتع ہونے اور قرآنی احکام پر چلنے اور کار بند رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔“ ان پیغامات کے بعد امیر صاحب نے عہدد ہرایا۔مکرم ممتاز علی مقبول صاحب نے سورہ نور کی روشنی میں برکات خلافت بیان کیں۔جس کے بعد مکرم محمد یسین خان صاحب آف صووا نے حضرت اقدس مسیح موعود کا منظوم کلام بھے وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا سنایا۔مکرم ماسٹر محمد حسین صاحب آف لٹو کا نے مجلس انصار اللہ کی اہمیت تنظیم کی برکات اور اپنی اولاد میں اطاعت نظام پیدا کرنے کی اہمیت کو نصف گھنٹے تک بیان کیا۔مکرم نائب صدر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں مجلس انصاراللہ کے قیام کے اغراض و مقاصد