تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 451 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 451

۴۵۱ کریں۔خصوصاً یورپ کے ماحول میں انصار اللہ کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔نوجوانوں کو یہاں کے گندے اثرات سے بچانے کے لئے بھی انصار کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی پڑیں گی اس لئے انہیں بہترین نمونہ بننا چاہئیے اور محبت اور نرمی سے نو جوانوں کو سمجھائیں تا یورپ کے ہلاکت خیز اثرات سے ہماری نوجوان نسل محفوظ رہ سکے۔اس کے بعد آپ نے اجتماعی دعا کرائی۔افتتاحی دعا کے بعد مکرم لئیق احمد صاحب منیر امام مسجد ہیمبرگ نے درس حدیث دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات پیش کئے جس میں صبر و استقامت تحمل اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کی تلقین ہے۔بعدہ زعماء کرام انصار اللہ مجلس فرینکفرٹ و ہیمبرگ مکرم محمد شریف صاحب خالد و مکرم مرزا منصور احمد صاحب نے تقاریر کیں۔اس طرح پہلا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ساڑھے سات بجے نماز مغرب باجماعت ادا کی گئی۔نماز کے بعد مکرم را نا محمد اسلم طاہر صاحب نے ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس دیا۔شام کے کھانے کے بعد نماز عشاء باجماعت ادا کی گئی۔اجلاس دوم: ساڑھے آٹھ بجے شام دوسرے اجلاس کی کارروائی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔مکرم محمد اسمعیل صاحب خالد نے ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے چیدہ چیدہ واقعات پیش کئے۔علمی مذاکرہ : رات قریب نو بجے علمی مذاکرہ کا دلچسپ پروگرام ہوا جس کا موضوع تھا’ تربیت واصلاح کا طریق اس موضوع پر انصار کو اپنے اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی گئی۔تقریباً تمام نے اس علمی مذاکرہ میں بھر پور حصہ لیا۔یہ مذاکرہ تقریبا دو گھنٹے جاری رہا۔مذاکرہ میں جس بات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ ہمیں ایک بہترین احمدی کا نمونہ پیش کرنا چاہئے کیونکہ ہم پر تربیت واصلاح کی ذمہ داری زیادہ شدت کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔احمدیت کی نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری اگر ہم نے ادا کرنے میں غفلت کی تو اس کے لئے ہم جواب دہ ہوں گے لہذا نئی نسل خصوصاً یورپ میں رہنے والے نوجوانوں کے لئے ایک مثالی مومن کا کردار ادا کرنا چاہیے۔خدا کے فضل سے یہ علمی مذاکرہ بہت کامیاب رہا۔آخر میں مکرم منصور احمد خان صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ انصار اللہ عمر کے اس حصہ میں ہوتے ہیں کہ ان کی بزرگی کی وجہ سے ان کا حلقہ احباب پر ایک اثر ہوتا ہے خواہ وہ گھر ہو یا دوستوں کی مجلس ہو۔لوگ ان کی بات بے دھیان ہو کر نہیں سنتے۔اس لئے ہمارے بزرگ دوستوں کو اپنے حلقہ احباب پر بہترین اثر پیدا کرنا چاہیے۔اس لحاظ سے ان کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ایک تو اپنی تربیت اور اس کے ساتھ دوسروں کی تربیت۔پس انصار اللہ کو واقعتاً اسلام کے انصار بننا چاہیئے۔رات گیارہ بجے اس علمی مذاکرہ کے اختتام کے