تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 382 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 382

قرآن کریم نظم اور عہد کے بعد پروگرام کا عملی حصہ گیارہ بجے کے قریب شروع ہوا۔جس میں تلاوت قرآن پاک، نظم ، تقاریر اور دینی معلومات کے مقابلے ہوئے۔یہ پروگرام بھی بہت ہی دلچسپ اور حاضرین کی دلجمعی اور توجہ کا باعث بنا۔اسی دوران تھوڑی دیر کے لئے صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بھی مقام اجتماع میں تشریف فرمارہ کر مقابلوں کا یہ دلچسپ پروگرام دیکھتے رہے۔ان مقابلوں کے بعد ایک بجے کھانے اور نماز کی ادائیگی کے لئے وقفہ رہا۔کھانا جو مقام اجتماع میں ہی تیار کیا گیا تھا، بلاک وار تقسیم کیا گیا۔جملہ انصار نے بڑے نظم وضبط کے ساتھ کھانا کھایا۔کھانے کے بعد نماز ظہر و عصر جمع کر کے ادا کی گئیں۔دوسرا اجلاس تین بجے بعد دو پہر تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوا۔نظم کے بعد مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے بحیثیت والدین انصار کی ذمہ داریاں“ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔آپ نے قرآن پاک کی روشنی میں شرح وبسط سے انصار کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔مولانا کے خطاب کے بعد مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت نے اپنے بنگلہ دیش کے حالیہ دورہ کے نہایت دلچسپ اور ایمان افروز حالات بیان کئے۔آپ نے حاضرین کو بنگلہ دیش کے احمدیوں کے اخلاص، والہانہ قربانی اور اسلام و احمدیت کے ساتھ گہری عقیدت اور ایمان کے ذاتی مشاہدہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت بڑی سرعت کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔ہر دو خطابات حاضرین کے لئے انتہائی دلچسپی اور از دیا دایمان کا باعث بنے۔اس پروگرام کے بعد انصار ایک بار پھر میدان عمل میں آئے اور رسہ کشی اور کلائی پکڑنے کے مقابلوں میں حصہ لیا۔یہ دو مقابلے روائتی جوش و خروش کے ساتھ دیکھے گئے۔اختتامی پروگرام سے پہلے ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔جس میں انصار نے مختلف دینی اور فقہی مسائل کے متعلق سوالات دریافت کئے۔مکرم مولا نا عبدالمالک خان صاحب اور مکرم مولا نا بشارت احمد صاحب بشیر نے جوابات دیئے۔پونے چھ بجے کے قریب صدر محترم مقام اجتماع میں دوسری مرتبہ تشریف لائے جس کے ساتھ ہی اجتماع کا آخری اجلاس شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم مولوی فضل الہی انوری صاحب زعیم اعلیٰ مجلس انصار اللہ ربوہ نے مختصر رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بعض غیر متوقع مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا یہ دوسرا اجتماع بھی بہت کامیاب رہا اور انصار کی دلچسپی اور ان کی قوت عمل کو ابھارنے کا موجب ہوا ہے۔رپورٹ کے بعد صدر محترم نے پہلے علمی اور ورزشی مقابلہ جات میں اول دوم اور سوم آنے والے انصار کو انعامات دیئے۔اور پھر اپنے اختتامی خطاب میں مقامی مجلس انصار اللہ کی مساعی پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے