تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 20
نمائندگی پر زور دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: د قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایک نمونہ ہیں آنے والی نسلوں کے لئے ، اس معنی میں کہ آپ کے اندر دو خصوصیات نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں۔ایک آپ حنیف تھے۔دوسرے آپ مسلم تھے۔حنیفا مسلما۔ہر وقت خدا تعالیٰ کے حضور جھکے رہنے والے اور ہر دم اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے والے پس ایک مسلمان کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حنیف بھی ہوا اور مسلم بھی ہو۔خدا تعالیٰ کے حضور ہر آن عاجزانہ جھکنے والا بھی ہو اور خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت کرنے کی کوشش کرنے والا بھی ہو۔۔۔وو 66 66 سب سے کارگر اور مؤثر حربہ ہتھیار جو ایک مسلمان کو دیا گیا وہ ایٹم بم نہیں، دعا کا ہتھیار ہے اور اس سے زیادہ کارگر اور ہتھیار نہیں۔اور دوسرے نمبر پر جو ہتھیار دیا گیا وہ ہائیڈ روجن بم کا ہتھیار نہیں بلکہ محبت اور شفقت، بے لوث خدمت۔۔۔۔۔ان اغراض کو سامنے رکھ کے بار بار یاد دہانی کرانے کے لئے اجتماع ہر سال ہوتے ہیں۔۔۔۔خدا تعالیٰ ، جس مقصد کے لئے یہ اجتماع منعقد ہوتے ہیں اس مقصد کے حصول کے سامان پیدا کرے اور جماعت کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اس میں حصہ لینے والی ہو اور امرائے اضلاع اور مربیان کو اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے عہدیداروں کو اللہ تعالیٰ ہمت عطا کرے کہ وہ اس بات میں کامیاب ہوں کہ کوئی جماعت ایسی نہ رہے جس کا نمائندہ نہ آیا ہو۔اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں پھر آئندہ سال پہلے کی نسبت زیادہ جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔اس لئے کہ ہر سال نئی جماعتیں بن جاتی ہیں۔اور پھر ایسے سامان پیدا ہوں۔خدا کرے کہ زیادہ سے زیادہ نئی جماعتیں بنیں۔زیادہ سے زیادہ نئی جماعتوں کے نمائندے ہوں اور ہر سال جس طرح موسم بہار میں زندہ درخت ایک نئی شان اور پہلے سے بڑھ کرشان کے ساتھ انسان کی آنکھوں کے سامنے اپنی سبزی کو ظاہر کرتے ہیں اور اپنے حسن کو پیش کرتے ہیں۔اس سے زیادہ ہمارے اجتماع عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے دنیا کی نگاہ اور اللہ تعالیٰ کے حضور حسن بیان اور محسن عمل کو پیش کرنے والے ہوں“۔) صدر محترم کا خصوصی پیغام اجتماع میں شرکت کے لئے صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے مربیان کرام اور امرائے اضلاع کے نام ۲۲ستمبر ۱۹۷۹ءکو مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا: وو سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امسال خطبہ جمعہ