تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 364
۳۶۴ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہوتی ہے۔خالی کوششوں میں کوئی بات نہیں۔اس ضمن میں میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ انسانی اعمال میں اگر اللہ تعالیٰ کا تعلق نہ ہو اور روح موجود نہ ہوذ کر کی تو بالکل بے جان جسد کی طرح ہو جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی حیوان میں سے روح پرواز کر جائے اور ایک لاشہ سا پیچھے رہ جائے۔اس وقت آپ اس کا وزن کر کے دیکھیں ، اس میں آپ کو کوئی بھی کمی نظر نہیں آئے گی بلکہ بعض دفعہ وہ لاش احساس میں زیادہ بوجھل نظر آتی ہے کیونکہ روح کے ساتھ اس میں اپنے وجود کی حرکت موجود ہوتی ہے۔اگر آپ ایک زندہ آدمی کو اُٹھائیں اس میں اتنا بوجھ نہیں ہوتا جتنا مردہ اُٹھانے کا نظر آتا ہے۔مگر یہ بہر حال ایک نفسیاتی کمزوری ہے، جو بھی آپ کہہ لیں ، مگر بہر حال وفات کے بعد اس کا وزن کم نہیں ہوتا۔لیکن اس کے باوجود زندہ اور مردہ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔اسی طرح بعض اوقات اعمال کی کیفیت ہوتی ہے۔بعض قوموں میں ظاہری اعمال پائے بھی جاتے ہوں تو اُن میں روح نہیں ہوتی۔تمام ظواہر کے حقوق وہ ادا کر رہے ہوتے ہیں۔عبادتیں کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر وہ بات نظر نہیں آتی اور انکی ہر چیز بے جان اور بے نور ہو جاتی ہے۔اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ وہ لوگ جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں، عبادت کرنے والے، ان کی عبادتیں ان کے چہروں پر روح کی زندگی کی نشانیاں لے کر آتی ہیں، وہ نور لے آیا کرتی ہیں۔وہ بے جان عبادتیں نہیں ہوا کرتیں۔جس طرح زندہ اور مردہ کے چہرہ میں فرق ہوا کرتا ہے اس طرح عبادت کرنے والوں میں جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں اور دنیا کی عبادت کرنے والوں میں تم نمایاں فرق دیکھو گے۔عبادت کے باوجود بعض لوگوں کے چہروں پر خدا کی طرف سے قوت قدسیہ کا نور نہیں آتا اور بعض چہروں پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے پر قوت قوسیہ کا نور آ جایا کرتا ہے۔پس مومنوں کی عبادت میں ایک زندگی پائی جاتی ہے، ان کے اعمال میں ایک زندگی پائی جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے تعلق سے ہوتی ہے۔اگر وہ نہ ہو تو ساری کوششیں محض لاشیئی ہو جاتی ہیں اور ان میں کوئی بھی قوت عمل، زندگی کی قوت نظر نہیں آتی۔انسان کا شرف صرف عبادت میں نہیں ہے، بلکہ ایسی عبادت میں ہے جس میں ذکر الہی اللہ تعالیٰ کی ذات کا پیار اور اس کی محبت اس طرح گندھی ہوئی ہو کہ ایک زندگی کی روح اس میں نظر آئے۔ورنہ خدا تعالیٰ کو اس سے کیا حاصل کہ ہم اس کے حضور میں جھک رہے ہیں، ایک قسم کی اُٹھک بیٹھک کی پریکٹس کر رہے ہیں۔اس سے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی حاصل نہیں۔ہاں جب روح زندہ ہوتی ہے اللہ کے ذکر سے، جب خدا تعالی کا پیار