تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 355 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 355

۳۵۵ بابرکت ہے۔کیونکہ یہ نام قرآن مجید سے لیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الصف میں فرماتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ مَنْ أَنْصَارِی اِلَى اللہ جس کے جواب میں حواریوں نے کہا کہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔لہذا انصار اللہ نام قابل فخر ہے۔لیکن اس کے ساتھ عظیم ذمہ داریاں بھی ہیں جن کو ادا کر کے حقیقی فخر قائم ہوتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ان کی عظیم جانی و مالی قربانیاں اور قابل فخر کارنامے اور ان کی دینی غیرت تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ان کی بے مثال قربانیاں انہیں زندہ جاوید بنا گئیں اور ایک دفعہ یا دو دفعہ نہیں بلکہ ہزاروں بار ایسا ہوا کہ ان کو مارا پیٹا گیا قتل کیا گیا، ان کے گھر بار برباد کئے گئے ، ان کو آگ میں زندہ جلایا گیا، وحشی درندوں کے آگے ڈالا گیا اور رومیوں نے اپنے بادشاہوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے ٹکڑے ہوتے دیکھے۔یہ واقعہ در حقیقت ایک جماعت سے یا ایک زمانہ میں نہیں گزرا بلکہ کئی جماعتوں سے مختلف زمانوں میں گزرا ہے اور یہ سلسلہ تین سوسال تک چلتا گیا۔آخر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ان لوگوں کا سطح زمین پر رہنا ناممکن بنادیا گیا اور انہوں نے زمین کے اندر غاروں میں پناہ لی۔اور غاریں بھی ایسی کہ جو بھیا تک جگہیں تھیں جن کو دیکھ کر انسان دہشت زدہ رہ جاتا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ ہم ان غاروں کو دیکھنے گئے۔ہمارے ایک ساتھی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ ان غاروں میں ذرا دُور تک اندر جا سکے۔پھر وہ ان غاروں میں بھی محفوظ نہ تھے۔غاروں میں بھی ان کا تعاقب کیا جاتا تھا اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہتا لیکن وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کرتے رہے۔بالآ خر اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کر کے دینی اور دنیوی ترقیات انہیں دیں۔دراصل یہ ایک تجارت تھی جو انہوں نے خدا تعالیٰ سے کی۔جیسا کہ سورہ الصف میں مومنوں سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کے رستہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو۔اُن انصار نے اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا اور خدا تعالیٰ کی جنتوں کے وارث ہوئے۔یہ لوگ حقیقت میں انصار تھے۔اگر آج آپ لوگوں کو یہ نام دیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے ہی حالات آپ کے ساتھ بھی پیش آنے والے تھے۔اصحاب کہف کا سا معاملہ اس مامور کے ماننے والوں پر بھی گزرنا تھا۔جیسا کہ روایت میں ہے اَصْحَابُ الْكَهْفِ اَعْوَانُ الْمَهْدِى يعنى اصحاب کہف امام مہدی کے مرید اور اس پر ایمان لانے والے لوگ ہیں۔پس آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے کام میں لگے رہیں اور استقلال سے مصائب اور ابتلاؤں کا مقابلہ کریں۔انصار اللہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی طرف جماعت کے تمام افراد حرکت کر رہے ہیں اور سب نے ایک دن انصار اللہ بنا ہے۔اس لئے ہر فرد کو عموماً اور انصار اللہ کو خصوصاً اپنے اس قابل فخر نام کی لاج رکھتے ہوئے ان عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے جن کا تقاضا انصار اللہ سے کیا جاتا ہے۔صرف خالی فخر کھوکھلا ہوگا اور اس کو تکبر یا غالبا نمود