تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 348
۳۴۸ ہے کہ مقامی انتظامیہ نے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے بھی کام لیا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہوئیں۔واضح رہے کہ اس موقع پر صدر محترم کی خدمت میں جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں بتایا گیا کہ ربوہ کے نوسو اُنہیں انصار میں سے آٹھ سو انتالیس اس وقت حاضر ہیں۔بعد میں یہ حاضری مزید بڑھ گئی اور اجتماع ختم ہونے سے قبل قریباً سو فیصد انصار حاضر تھے۔محترم صاحبزادہ صاحب کی تقریر نہایت مؤثر تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود کا یہ شعر پڑھا اے دوستو پیارو عقبی کو مت بسارو کچھ زاد راہ لے لو کچھ کام میں گذارد اور کہا کہ مومن کی زندگی میں آرام کا تو تصور بھی نہیں ہوتا اس لئے یہ خیال کبھی دل میں نہ آنے دیں کہ اب ہماری آرام کرنے کی عمر ہے۔ہمارے پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اکثر انبیاء کرام کو بھی چالیس سال کی عمر میں ہی منصب نبوت جیسی اہم اور نازک ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے سپرد کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دراصل یہی وہ عمر ہے جب فرہنوں میں پختگی پیدا ہونے کے بعد انسان نسبتا زیادہ ٹھوس اور پائیدار کام کرسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث بھی اکثر یہ فرمایا کرتے ہیں کہ انصار جوانوں کے جوان ہیں پس انصار بھائیوں کو ہمیشہ اپنے عزائم کو بلند اور ہمتوں کو جواں رکھنا چاہئے۔علمی مقابلوں میں انصار کا جوش و خروش: صدر محترم کی تقریر کے بعد اجتماع کے پروگرام کا علمی حصہ شروع ہوا۔اس میں درس و تدریس کے علاوہ تلاوت قرآن کریم نظم خوانی اور تقریر کے مقابلے شامل تھے۔ان میں انصار نے نہایت ذوق و شوق سے حصہ لیا۔ان میں ایک دلچسپ مقابلہ دینی معلومات کا تھا جس کے لئے ” تاریخ احمدیت جلد سوم کا نصاب مقرر تھا۔یہ مقابلہ سوال و جواب کے رنگ میں ہوا۔انصار کو سٹیج پر بلا کر سوال پوچھے جاتے جو سننے والوں کے لئے دلچسپی کا باعث بنے۔اسی دوران میں بنیادی معلومات کا ایک تحریری امتحان لیا گیا۔مقابلوں کے بعد کھانا کھانے اور نماز کا وقفہ کیا گیا۔تقریباً تمام انصار اپنی اپنی پلیٹ اور گلاس ہمراہ لائے تھے۔کھانے کے لئے انصار کو بلاک وائز قطاروں میں بٹھایا گیا۔یہ کھانا مجلس مقامی کی طرف سے پیش کیا گیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے بھی انصار کے ہمراہ کھانا کھایا۔انصار حضرت صاحبزادہ صاحب کو اپنے ساتھ دیکھ کر بہت خوش تھے۔نماز ظہر وعصر کے بعد دو سے چار بجے تک تبلیغی واقعات پر مشتمل ایک پُر لطف مجلس ہوئی جس میں بعض انصار نے میدان تبلیغ میں پیش آنے والے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات سنائے۔آنریری مربیان کی کلب: اس مجلس کی اہم بات آنریری مربیان کی ایک کلب کی تشکیل تھی۔جس میں ابتدائی طور پر پینتیس احباب نے واقفین کے طور پر اپنے نام پیش کئے اور یہ عہد کیا کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت