تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 318 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 318

۳۱۸ دعا پر ختم ہوا۔اس اجتماع میں ضلع لاڑکانہ کی سب مجالس شریک ہوئیں۔اس موقع پر ماہنامہ انصار اللہ کے سات خریدار بنائے گئے۔گو سخت سردی تھی مگر مقامی مجلس نے ہر طرح تسلی بخش انتظامات کئے تھے۔(1) جلسہ ہائے یوم مصلح موعودضلع گجرات ۲۲ فروری سے ۲۴ فروری ۱۹۷۹ تک کوٹلی افغاناں، مونگ اور کھوکھر غربی میں مجلس انصار اللہ کے زیر اہتمام جلسہ ہائے یوم مصلح موعود منعقد کئے گئے۔ناظم صاحب کے ساتھ اس دورہ میں نائب ناظم صف دوم چوہدری عنایت اللہ صاحب اور ڈاکٹر صو بیدار بدر عالم صاحب تھے۔تینوں اجلاسات میں مستورات، اطفال اور خدام نے شرکت کی۔(۲) دوره فیصل آباد فیصل آباد مورخه ۲۳ فروری بروز جمعہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس ،ہکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نائب صدر صف دوم اور مکرم ملک حبیب الرحمن صاحب قائد عمومی کی معیت میں مسجد فضل فیصل آباد میں تقریباً ساڑھے دس بجے دن پہنچے۔اس وقت تک ضلع فیصل آباد کی مجالس کے قریباً پچاس زعماء اور ان کے نمائندے مسجد میں پہنچ چکے تھے۔صدر محترم نے عہدیداران سے ان کی مجالس کا باری باری جائزہ لیا اور ہر ایک عہدہ دار سے اس کے گاؤں کی کل آبادی، افراد جماعت کی تعداد تجنید انصار اللہ اور ہر رکن کی طرف سے مالی قربانی تبلیغی اور تربیتی مساعی کے متعلق استفسارات کئے اور اپنے فرائض کی طرف پوری توجہ دینے کی تاکید کی۔آپ نے ہدایت فرمائی کہ گاؤں میں دوستانہ تعلق اور ہمدردانہ مراسم رکھیں اور دوست احباب کو مرکز احمدیت میں لانے کی پوری کوشش کریں تا مرکز کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن کر احمدیت کے متعلق جو غلط فہمیاں ان کے دلوں میں پیدا کی گئی ہیں ، کا ازالہ ہو سکے۔خطبہ جمعہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے تبلیغی سرگرمیاں تیز کرنے کی طرف توجہ دلائی۔جمعہ کے معاً بعد آپ نے اجلاس عام کی صدارت فرمائی۔تلاوت اور عہد دہرانے کے بعد زعیم صاحب اعلی مجلس فیصل آباد شہر نے رپورٹ کارگزاری پیش کی۔صدر محترم نے رپورٹ کے بعض مندرجات مثلاً ایثار وغیرہ پر خوشنودی کا اظہار کیا لیکن اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دوست حالات حاضرہ کے مطابق تبلیغ اور تربیت کی طرح پوری توجہ نہیں دے رہے۔آپ نے فرمایا کہ پچھلی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ہر دوست اپنے نئے سال کے پروگرام کا ٹارگٹ مقرر کرے اور آج تک جو اس نے کیا ہے، اسے نقطہ آغاز تصور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنے ٹارگٹ کی طرف رواں دواں ہوا اور مرکز سے ہر طرح کا رابطہ قائم رکھے اور اخراجات سے بے فکر ہو کر دوستوں کو مرکز میں لانے اور بزرگانِ سلسلہ سے ملاقات کرانے کی کوشش میں لگا رہے۔نیز تمام دوستوں کو آپس میں محبت اور پیار