تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 1
بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ انصار اللہ کا چھٹا دور جنوری ۱۹۷۹ء تا جون ۱۹۸۲ء صدر مجلس۔۔۔۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تقر ر صدر انصار اللہ برائے ۱۹۷۹ء تا ۱۹۸۱ء ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۱ء تک کی تین سالہ صدارت مجلس انصار اللہ کے لئے مجلس شوری ۱۹۷۸ء پر انتخاب کروانا ضروری تھا چنانچہ اکتوبر ۱۹۷۸ء میں قیادت عمومی نے دستور اساسی انصار اللہ کے مطابق حسب قواعد مجالس سے نام طلب کئے۔اس سے قبل ۱۹۶۹ء سے مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صدر مجلس کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔چونکہ مکرم صاحبزادہ صاحب متواتر تین بار صدر منتخب ہو چکے تھے اس لئے دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۹۳ کی رُو سے آپ کا نام اس عہدہ کے لئے پیش نہیں ہوسکتا تھا لہذا شورٹی میں صدر کے لئے مندرجہ ذیل چار اسماء پیش ہوئے: (۱) مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب (۲) مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (۳) مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب (۴) مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ۱۲۸ اکتوبر ۱۹۷۸ء بوقت نو بجے صبح شوری کے اجلاس میں صدر کا انتخاب حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی صدارت میں ہوا۔کثرتِ آراء مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے حق میں تھی۔صدرا جلاس نے شوری کی یہ سفارش حضور اقدس کی خدمت میں بھجوائی جسے حضور نے منظور فرماتے ہوئے مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو جنوری ۱۹۷۹ء تا دسمبر ۱۹۸۱ء تین سال کے لئے صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ مقرر فرمایا۔تقر ر نا ئب صدر صف دوم اسی اجلاس شوری میں آئندہ تین سال کے لئے نائب صدر صف دوم کا انتخاب بھی حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے کروایا۔انتخاب میں چار اسماء پیش ہوئے۔