تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 101
1+1 ہے۔پھر غرناطہ گئے۔وہاں عجائبات روحانی و مادی کا ایک شاندار مجموعہ ہے۔ایک محل ہے وہاں جو بہت سے معجزات اپنے اندر رکھتا ہے۔عقل اور مہارت جو اللہ تعالیٰ سے اُسی کے حضور جھک کر اور اس کے حضور دعائیں کر کے مسلمان نے حاصل کی۔اس عقل اور مہارت کے نقوش ہی نہیں بلکہ بعض حقیقتیں بھی ان جگہوں پر جو پانچ سو سال سے کھنڈر کی شکل میں پڑی ہوئی ہیں ، آج بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔مسلمان کی یہ عظمت، مسلمان کی عاجزی اور اس کی دعا اور اس کی تدبیر کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے قائم کی۔اس محل کی تعریف یہ ہے کہ بادشاہ وقت نے بڑے شوق سے بڑی دولت خرچ کر کے اسے تیار کروایا۔کہتے ہیں تین ہزار سنگ تراش کئی سال کام کرتے رہے اس کو بنانے پر۔اور فصیل اس کی ایک وسیع خطہ ارض کو گھیرے ہوئے ہے۔درود یوار اور گنبدوں ، محرابوں کو بہت خوبصورت سجایا گیا۔جب بادشاہ وقت اپنے درباریوں کے ساتھ گھوڑوں پر سوار اس محل کی طرف روانہ ہوئے تو شیطان نے دل میں وسوسہ پیدا کیا اور انانیت نے جوش مارا۔میں اتنا بڑا بادشاہ کئی ہزار ساری دنیا سے آئے ہوئے ماہرین فن یہاں جمع ہوئے ”میری خاطر“ ”میری خاطر انہوں نے اتنے سال کام کیا اور اتنی عظیم چیز تیار ہوگئی۔ساتویں عجوبہ سے بھی بڑھ کر ایک عجوبہ۔ایک چشمہ اندر ہی اندر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا دیا گیا۔بغیر پھول اور پھل اور گھاس کے تو وہ لوگ رہ ہی نہیں سکتے تھے۔اُن کو قدرت کے مناظر بڑے پسند تھے۔”میں“۔”میں“ نے جوش مارا تو خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اسے جھنجھوڑا۔یہ ”میں“ ”میں“ کیا لگائی ہے۔جیسا کہ میں نے خطبہ جمعہ میں بتایا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی نعمت تمہارے پاس ہے۔تمہارے شامل حال ہے وہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔تمہارے زور بازو سے یا تدبیر سے یا دولت سے نہیں ملی تمہیں۔جب فرشتوں نے اسے جھنجھوڑا تو وہ سخت پریشان ہوا اور ابھی جب وہ دروازے سے باہر ہی تھا۔اس نے گھوڑے سے چھلانگ ماری اور زمین پر سجدہ کر دیا اور کہنے لگا واپس چلو۔میرے رہنے کے لئے نہیں یہ حل۔اور انجینئرز سے کہا کہ سارے نقوش مٹاؤ اور ان در و دیوار اور چھتوں پر صفات باری لکھو خوبصورتی کے لئے۔اور لا غَالِبَ إِلَّا الله کو اس محل کے حسن کا مرکزی نقطہ بناؤ۔چاروں طرف دیوار پر یوں چل رہی ہے پٹی۔لَا غَالِبَ إِلَّا الله۔لَا غَالِبَ إِلَّا الله۔لا غَالِبَ إِلَّا اللہ پھر اس میں بیضوی شکل میں اور گول شکلوں میں بھی۔اس کے علاوہ الْقُدْرَةُ لِله۔الْحُكْمُ لِله۔الْعِزَّةُ لِلہ لکھا ہوا ہے تا یہ ظاہر ہو کہ یہ ساری خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے لئے تھی۔دیوار میں بھی اپنی خاموشی کے باوصف خدا کی حمد کے ترانے گا رہی ہیں۔پھر کئی سال مزید لگے اور سنگ تراشوں نے سنگ میں سے یہ حروف ابھارے ہیں۔دو۔دو۔تین۔تین سوت