تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 43
۴۳ نے زندگی کی نشو ونما اسی طریق پر جاری فرمائی۔اگر اس کے سوا کوئی اور طریق ہوتا تو زندگی کب کی موت کا شکار ہو چکی ہوتی اس لئے آپ کی اگلی نسلوں کی حفاظت کے لئے ، آپ کی روحانی حفاظت کے لئے ، دنیا کو امن کی طرف کھینچ لانے کی خاطر جو تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ غفلت کی حالت میں ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہے۔اس حالت میں اسے محفوظ و مامون کرنے کی خاطر آپ کی ذمہ داری ہے کہ صبح اور شام، دن اور رات خدا کی طرف اور سچے سیدھے راستے کی طرف بلانے والے بن جائیں جو خدا کی طرف جاتا ہے۔ہر وہ احمدی جود دیگر فرائض ادا کر رہا ہے اس پر یہ بھی فرض باقی فرائض کی طرح عائد ہوتا ہے کہ وہ تبلیغ کرے اور کم سے کم وسعت آپ کی تبلیغ کی اور آپ کی حیثیت کی حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ ہے کہ ہر احمدی سال میں دگنا ہونا سیکھ جائے۔زیارت مرکز کی برکت پس اس نیت سے آپ نے کام کو منظم کرنا ہے۔نہ صرف یہ کہ خود کرنا ہے بلکہ اس کو ان خطوط پر اپنے آئندہ سال کے کام کو اور بقیہ تین مہینوں کے کام کو منظم کرنا ہے واپس جا کر۔ہر جماعت میں انصار اللہ کے ہر ایسے کارکن کا فرض ہے جس کے سپر د اصلاح وارشاد کا کام کیا گیا ہے۔کہ سب سے پہلے وہ فہرستیں بنائے۔جو لوگ تبلیغ نہیں کرتے ان کے نام لکھے۔ان سے کہو کہ بتاؤ اب کن کو تبلیغ شروع کرو گے اور خاص طور پر نگرانی رکھے کہ وہ کام شروع کر چکے ہیں کہ نہیں۔ایسے لوگوں کے لئے دعا کے لئے بار بار تحریک کی جائے۔کارکن خود ان کے لئے دعا کریں اور ان سے بھی کہیں کہ دعا کے بغیر پھل نہیں لگے گا۔حضرت اقدس خلیفتہ المسیح کی خدمت میں دعا کے لئے خطوط لکھیں۔ان کو مرکز میں لانے کی کوشش کریں کیونکہ مرکز میں بعض دفعہ حضرت اقدس کی محض زیارت ہی وہ کام کر جاتی ہے جو آپ کے سارے سال کی محنت نہیں کرتی۔وقت تھوڑا ہے۔میں آج آپ کے سامنے صرف ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ایک نہایت کٹر علاقے کے لاہور کے ایک مولوی صاحب ایک دفعہ تشریف لائے جن کے چہرے پر خشونت اور نفرت کے آثار نمایاں تھے۔مجھے خوف پیدا ہوا کہ احباب جماعت بغیر ان کو سمجھائے بجھائے اس حالت میں یہاں ربوہ لے آئے ہیں اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کیا ہے لیکن یہی مولوی صاحب اس کے بعد جب مجھے ملے یعنی ملاقات کے بعد تو چہرے کی کیفیت ہر پہلو سے بدل چکی تھی۔آنکھوں میں وہ ڈاڑھی جو بھیا نک لگتی تھی، نہایت ہی پیاری اور دیدہ زیب نظر آ رہی تھی۔ایک ایک بال محبت کا پیغام تھا۔مجھے بہت تعجب ہوا۔میں نے ان کو دیکھ کر کہا مولوی صاحب آپ کو کیا ہوا